خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 840 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 840

خطبات ناصر جلد دہم ۸۴۰ خطبہ نکاح ۲ / جنوری ۱۹۸۲ء تو عظیم ہے اللہ جس کی عظیم برکتیں یہ ہیں کہ اس نے ایک ایسی موت کا سلسلہ جاری کیا جس کے بعد ابدی حیات، انسان کو میسر آتی ہے۔اور والحیوۃ اور ایک ایسی زندگی کا سلسلہ جاری کیا جس پر موت وارد نہیں ہوتی۔موت کو پہلے رکھا اور حیات کو بعد میں۔پہلے جو موت رکھی اس میں موت سے پہلے کی حیات خود ہمارے سامنے آجاتی ہے کیونکہ جو زندہ نہیں وہ مر نہیں سکتا۔تو خَلَقَ الْمَوت جب کہا۔تو اس کے معنی یہی تھے کہ اس نے زندگی دی اور پھر موت وارد ہوئی۔اور نظام حیات قائم کیا ایک ایسا نظام حیات جو ابدی ہے جس پر کوئی موت وارد نہیں ہوتی۔اس واسطے اس حیات کے بعد کسی موت کا ذکر نہیں کیا گیا اور عظمتیں خدا تعالیٰ کی اس صداقت میں یہ ہیں لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (الملك: ۳،۲) انسانی زندگی بے مقصد نہیں ہے اور مقصد انسانی زندگی کا یہ ہے کہ انسان ایک ایسی حیات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے جو ابدی ہے۔ایک ایسی زندگی پانے میں وہ کامیاب ہو جس زندگی میں خدا تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں نازل ہوتی ہیں اور جس زندگی میں یہ نعمتیں جو ہیں یہ زندہ نعمتیں درجہ بدرجہ بڑھتی چلی جاتی ہیں۔یہ الحیوۃ ایک خاص قسم کی حیات۔آن جو ہے وہ مخصوص کرتا ہے حیوۃ کو یعنی وہ حیات جس کا ذکر بڑی تفصیل سے قرآن کریم نے متعدد جگہ کیا ہے۔ایک ایسی حیات جس کی ہر صبح پہلی شام سے زیادہ روشن اور جس کی ہر شام صبح سے زیادہ حسین ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کے جلوے پہلے سے زیادہ (انسان کی نسبت ) منور ہو کر اور زیادہ پیار والے بن کر اس پر ظاہر ہوتے ہیں۔دو حیات کا یہاں ذکر ہے۔ایک وہ کہ نام لئے بغیر جس کی طرف اشارہ کیا ”لفظ موت“ نے اور ایک وہ کہ نام لے کر جس کی طرف اشارہ کیا گیا جس کے بعد پھر موت اور فنا نہیں۔اس کی ابتدایوں کہ انسانی زندگی میں جائز بچے پیدا کرنے کے لئے مسلمان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو یعنی نکاح کا اعلان کیا جائے با قاعدہ اور تب اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے جنسی تعلقات کے قائم کرنے کی اور سامان پیدا کیا ہے۔بچوں کے پیدا ہونے کا اور اس لحاظ سے بڑی ذمہ واریاں ڈال دیں۔ایسے ماں باپ پر جنہوں نے اپنے بچوں کی اس رنگ میں