خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 808
خطبات ناصر جلد دہم ۸۰۸ خطبہ نکاح ۱۶ مئی ۱۹۷۹ ء لگاتے ہیں اس کے نتیجے میں ہمیں پتہ ہی نہیں لگتا کہ ہماری زندگی کب اور کیسے گزرگئی۔سوائے ان لوگوں کے جن کو خدا تعالیٰ کا پیار حاصل ہو جائے اور اسی دنیا میں ان کے لئے جنت کے سامان پیدا ہو جائیں۔آئندہ کی سوچ کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ جس طرح ہم خدا کے پیار کو حاصل کریں ہماری اگلی نسل بھی خدا کے پیار کو حاصل کرنے والی ہو اور اگلی نسل پیار کو تبھی حاصل کرے گی جب اگلی نسل کا سامان پیدا کیا جائے گا اور ازدواجی رشتوں کا اسلامی تعلیم کے مطابق اعلان کیا جائے گا۔یہ موقع بھی جب ایک لڑکی اور لڑکے کو ازدواجی بندھنوں میں باندھا جاتا ہے ایک نوجوان کی زندگی کا بڑا اہم واقعہ ہے بہت ہی اہم۔کچھ لوگ ، کچھ خاندان یا افراد، دولہا دلہن تو سوچتے اور غور کرتے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے اور اسلام نے جو حقوق اور جو فرائض خاوند کے مقرر کئے ہیں ان کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں یا جو بیوی کے حقوق اور فرائض مقرر کئے ہیں۔لڑکی ان کو پہچاننے کی کوشش کرتی ہے اور عہد کرتی ہے کہ کچھ ہو جائے اسلامی تعلیم پر میں عمل کروں گی۔تو زندگی جو ہے ان کی ، ازدواجی زندگی جس کے بندھن میں انہوں نے بندھنا ہے بڑی خوشحال زندگی بن جاتی ہے اور پھر اگلی نسل پیدا ہوتی ہے پھر اس کے لئے تدبیر کرتے ہیں۔اسی طرح یہ چکر اس دنیا میں چلتا چلا آیا ، چل رہا ہے اور چلتا چلا جائے گا۔دعا ہے کہ جن رشتوں کا اس وقت میں اعلان کروں گا اللہ تعالیٰ ان کو بھی اسلامی روشنی میں روشن اور خوشحال زندگی گزارنے کی توفیق عطا کرے اور ان کی نسلوں کو بھی اور اس دنیا میں بھی ان کے لئے جنتوں کے سامان پیدا ہوں اور مرنے کے بعد بھی۔اس وقت میں دونکاحوں کا اعلان کروں گا۔حضور انور نے درج ذیل دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔۱۔عکرمہ بشری صادقہ صاحبہ بنت محترم چوہدری احمد علی خان صاحب مرحوم ساکن شیخو پورہ کا نکاح مکرم محمد افضل صاحب ڈارا ابن محترم محمد اکرم صاحب ڈار ساکن چو ہڑکانہ ضلع شیخو پورہ سے پانچ ہزار روپیہ مہر پر۔مکرمہ نصرت بشری صاحبہ بنت محترم مرزا نذیر احمد صاحب ساکن محلہ دارالعلوم غربی ربوہ کا نکاح