خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 807
خطبات ناصر جلد دہم ۸۰۷ خطبہ نکاح ۱۶ مئی ۱۹۷۹ء نکاح ایک نوجوان کی زندگی کا بہت ہی اہم واقعہ ہے خطبہ نکاح فرمود ه ۶ ارمئی ۱۹۷۹ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے نماز مغرب کے بعد دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔انسانی فطرت میں ہے مستقبل کے متعلق سوچنا اور اس کی بہتری کے لئے تد بیر کرنا۔مشہور ہے کہ انسان جب بوڑھا ہو جاتا ہے تو وہ ماضی کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔یہ اس کے بڑھاپے کی علامت ہے اور انسانی فطرت کو ایسا اس لئے بنایا گیا ہے کہ مستقبل میں ایک ایسا واقعہ اس کی زندگی میں رونما ہونے والا تھا کہ جس نے اس کی زندگی میں ایک انقلاب عظیم بپا کرنا تھا اور وہ واقعہ یہ ہونا تھا مستقبل میں کہ اس نے اس ورلی زندگی کو چھوڑ کے اخروی زندگی میں داخل ہونا تھا اور اس مختصرسی زندگی کو چھوڑ کے ایک ابدی زندگی میں اس نے داخل ہونا تھا اور ان جھوٹی خوشیوں کو چھوڑ کے اور ان عارضی مسرتوں سے باہر نکل کے ہمیشہ رہنے والی حقیقی خوشیاں اس کے لئے مقدر بن سکتی تھیں اگر وہ اس کے لئے کوشش کرتا۔اس لئے انسان کی فطرت کو ہی ایسا بنایا گیا کہ وہ آئندہ کے متعلق سوچے۔اور اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ ہم ہر سال آئندہ اگلے سال کے متعلق سوچتے ہیں پھر اگلے سال کے متعلق سوچتے اور یہ چھوٹے چھوٹے جو ہم قدم اٹھاتے یا چھلانگیں