خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 52
خطبات ناصر جلد دہم ۵۲ خطبہ عید الفطر ۸/نومبر ۱۹۷۲ء نے عید کی بجائے نُزُلاً مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ (حم السجدۃ:۳۳) کی آیت کریمہ میں نول کی اصطلاح کو استعمال کیا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ جو غفور ہے غلطیوں کو معاف کر دیتا اور خطاؤں کو نظر انداز کر دیتا ہے اور پھر وہ رحیم ہے وہ انسان کی بار بار کی محنت کو بار بار شرف قبولیت بخشا اور اس کے لئے خوشی کا سامان پیدا کرتا ہے یعنی جو بار بار آنے کا مفہوم عید کے لفظ میں تھا نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رحِیم میں نُزُل کے لفظ سے اسی تخیل کو گویا ایک نہایت حسین پیرا یہ میں ادا کیا ہے۔دوسرے عید کا لفظ یہ نہیں بتا تا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہونے والی خوشی ہے۔یہ ایک ایسی خوشی ہے جو بار بار آتی تھی۔ایسی خوشی جو ابو جہل کے گھر میں ہر بچے کی پیدائش پر بار بار آئی اور دوسرے کفار کے ہاں بھی جن کے بہت زیادہ بچے تھے ان کے گھروں میں ہر بچے کی پیدائش پر اُن کے لئے دنیوی خوشی کے سامان پیدا ہوئے وہ گویا ان کے لئے عید کا دن تھا لیکن وہ اُن کے لئے نُوراً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ کا دن نہیں تھا۔پھر ان دونوں قسم کی عیدوں میں ایک یہ فرق بھی ہے کہ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا ( حم السجدۃ: ۳۱) اس کی رُو سے گویا ہماری عید استقامت کا نتیجہ ہے اور اس عید سعید کے مقابلہ میں جو چیز اس کی ضد ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے غضب کے نزول کا دن اس کے لئے بھی گو ایک تسلسل کا ہونا ضروری ہے لیکن قرآن کریم کی اصطلاح میں اسے استقامت نہیں کہتے بلکہ اصرار کہتے ہیں جیسے مثلاً سُورۃ نوح میں فرمایا وَ اَصَرُّوا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا (نوح: ۸) یعنی ایسے لوگوں نے اپنے گناہوں اور کفر اور انکار اور نبی کو قبول نہ کرنے پر اور اس کی مخالفت کرنے پر بوجہ تکبر اصرار کیا یعنی وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے اور گناہ پر تسلسل تھا۔وہ کہتے تھے کہ ہم نے گناہ نہیں چھوڑ نا چنانچہ اس کے نتیجہ میں وہ عذاب یا جہنم کے مستوجب ٹھہرے۔قرآن کریم نے عذاب کا لفظ دونوں معنوں میں استعمال کیا ہے۔اُس تنبیہ کے معنی میں بھی جولوگوں کی اصلاح لئے عذاب کی شکل میں نازل ہوتا ہے اور اُس قہر کے معنوں میں بھی جو مرنے کے بعد ( خدا محفوظ رکھے) اللہ تعالیٰ کی ناراضگی حاصل کرنے والوں کے لئے جہنم کی شکل میں ملتا ہے۔اس کو بھی عذاب جہنم کہتے ہیں۔قرآن کریم نے بھی عذاب کو اس معنی میں استعمال کیا ہے۔