خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 704 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 704

خطبات ناصر جلد دہم ۷۰۴ خطبہ نکاح ۶ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے احمدی ذہن میں چلا پیدا کی ہے اس لئے نہ تو رشتوں میں کوئی دقت پیش آنی چاہیے اور نہ مقالہ نویسوں کی تلاش میں تگ و دو کی ضرورت پیش آنی چاہیے۔جہاں تک مقالوں کا سوال ہے اس وقت اس بات کی ضرورت ہے کہ بہت کچھ لکھا جائے اور اس وقت اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ نئی تحقیق کی جائے کیونکہ دنیا علم کے میدان میں آگے نکل رہی ہے اور جو صحیح علمی تحقیق ہورہی ہے وہ اسلام کی صداقت کے سامان پیدا کر رہی ہے اور ا کثر باتیں ہماری نظر سے اس لئے اوجھل رہتی ہیں کہ وہ لوگ جنہیں ان کی طرف توجہ کرنی چاہیے وہ توجہ نہیں کرتے اور اس طرح جن دوستوں کو ان کی توجہ کے نتیجہ میں ان علوم کا علم ہونا چاہیے ان کے علم میں یہ باتیں نہیں آتیں اور اسلام سے باہر جولوگ یہ سمجھنے لگیں کہ یہ باتیں تو خدائے واحد و یگانہ کو ثابت کرتی ہیں ان کی تو اسلام دشمنی کی وجہ سے خواہش ہی یہ ہوتی ہے کہ یہ باتیں جتنے عرصہ تک چھپی رہیں اتنا ہی اچھا ہے۔اس وقت صرف اس قسم کے لٹریچر اور کتب و رسائل کی ہی ضرورت نہیں بلکہ مختلف زبانیں جاننے والے گروہ اور جماعتیں اور ملک ہم سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ احمدیت یعنی صحیح ، بچے اور حقیقی اسلام کی جو تعلیم ہے اس کے متعلق بھی ہمیں ہماری زبان میں لٹریچر مہیا کیا جائے۔آپ کو یہ علم ہے کہ جب میں گوٹن برگ کی مسجد کی بنیا درکھنے کے لئے گیا تو گوئٹن برگ میں ۱۴ یوگوسلاو احمدی ہوئے اور اس کے بعد ایک اور مقام پر پہلے سات اور پھر دو اور پھر چار احمد کی ہوئے یعنی وہاں تیرہ مزید احمدی ہو چکے ہیں اور ایک رو جاری ہے۔وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے احمدیت کی صداقت کے چند ایسے وزنی دلائل کو سمجھنے کے بعد احمدیت کو قبول کر لیا ہے جن کے سمجھنے کے بعد احمدیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا یعنی اس بات کو قبول کر لیا ہے کہ آج مہدی علیہ السلام کے ذریعے اسلام کی صحیح شکل دنیا کے سامنے رکھی جارہی ہے لیکن اسلام کی صحیح شکل کیا ہے؟ وہ کون سی تعلیم ہے جس سے بدعات نکال کر باہر پھینکی جا چکی ہیں ، اسلام کی اور قرآن عظیم کی وہ کون سی حسین تعلیم ہے جو آج کے انسان کے مسائل کو حل کرنے والی ہے۔اس کے متعلق ہمیں لٹریچر دو۔اس کے متعلق ہمیں قرآن عظیم کی نئی تفسیر ، نئے معانی پر مشتمل تغییر دو چنانچہ جب بیعتیں ہوئیں تو آپ لوگ خوش ہوئے اور خوش ہونا چاہیے تھا لیکن جس وقت یہ مطالبہ ہوا تو وہ لوگ جو اس طرف توجہ کر سکتے