خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 674
خطبات ناصر جلد دہم ۶۷۴ خطبہ نکاح ۲۷ جنوری ۱۹۷۴ء اس وقت میں تین نکاحوں کا اعلان کروں گا اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تینوں ازدواجی رشتوں (تین خاوندوں اور تین بیویوں) کو اسلامی شریعت کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور نباہنے کی توفیق ملے۔ا۔عزیزہ بچی حمیدہ مرزا صاحبہ بنت مکرم محترم مرزا محمد ادریس صاحب ربوہ کا نکاح چار ہزار روپے حق مہر پر عزیزم مکرم حامد احمد صاحب خالد ابن مکرم محترم شیخ محبوب عالم صاحب خالد ( ناظر بیت المال آمد ) ربوہ سے قرار پایا ہے۔ہماری بچی عزیزہ حمیدہ مرزا صاحبہ کے والد مرز امحمد ادریس صاحب اس وقت انڈونیشیا میں بطور مبلغ سلسلہ عالیہ احمد یہ کام کر رہے ہیں۔انہوں نے اپنی طرف سے اور عزیزہ بچی حمیدہ مرزا صاحبہ کی طرف سے مکرم محترم شیخ خورشید احمد صاحب ( نائب ایڈیٹر الفضل ) کو بطور وکیل مقر ر کیا ہے۔۲۔عزیزه تحسین فردوس صاحبہ بنت مکرم محترم قاضی شریف الدین صاحب ربوہ کا نکاح سات ہزار روپے مہر پر عزیزم مکرم ملک طاہر احمد صاحب ابن مکرم محترم ملک حبیب الرحمان صاحب ربوہ سے قرار پایا ہے۔۔عزیزہ امتہ الہادی صاحبہ بنت مکرم محترم شیخ مبارک احمد صاحب لندن کا نکاح سات صد پاؤنڈ ( سکہ برطانیہ ) مهر پر عزیزم مکرم ناصر احمد صاحب ساہی ابن مکرم محترم چوہدری محمد طفیل صاحب ساکن ڈسکہ کلاں ضلع سیالکوٹ سے قرار پایا ہے۔لڑکی کے والد شیخ مبارک احمد صاحب خود یہاں حاضر نہیں ہو سکے، انہوں نے اپنی طرف سے اور عزیزہ بچی کی طرف سے مکرم محترم قریشی محمد یوسف صاحب بریلوی ربوہ کو وکیل مقرر کیا ہے۔ایجاب و قبول کے بعد ان رشتوں کے بہت بابرکت ہونے کے لئے حضور انور نے حاضرین سمیت دعا کرائی۔روزنامه الفضل ربوه ۲۰ فروری ۱۹۷۴ ء صفحه ۵)