خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 675
خطبات ناصر جلد دہم ۶۷۵ خطبہ نکاح ۱۵ / فروری ۱۹۷۴ء اللہ اپنے فضل سے اس رشتہ کو بہت با برکت کرے خطبہ نکاح فرموده ۱۵ فروری ۱۹۷۴ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز مغرب از راه شفقت مندرجہ ذیل نکاح کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اس وقت میں اپنی ایک عزیزہ واقفہ زندگی کے نکاح کا اعلان کروں گا۔ہمارے جس عزیز کے ساتھ ان کی شادی ہورہی ہے وہ بھی ایک واقف زندگی استاد ہیں اور خدمت دین کے لئے افریقہ گئے ہوئے ہیں۔یہ عزیزہ بھی وہیں انہی کے ساتھ وقف کا کام کرنے کے لئے جارہی ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل سے اس رشتہ کو بہت بابر کت کرے اور سب کے لئے خوشیوں کے سامان میسر آئیں۔یہ نکاح عزیزہ شمیم نصرت صاحبہ بنت مکرم ملک عبد المالک خاں صاحب ساکن لا ہور کا ہے جو دس ہزار روپے مہر پر عزیزم مکرم مبارک احمد خاں صاحب ایم۔ایس۔سی ابن مکرم محمد اسماعیل صاحب کا تب ربوہ سے قرار پایا ہے۔عزیزم مکرم مبارک احمد صاحب غانا میں ہیں۔وہیں سے فارم نکاح پر ہو کر آئے ہیں۔ان کے والد مکرم محمد اسماعیل صاحب کا تب ان کی طرف سے وکیل نکاح ہیں۔