خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 517
خطبات ناصر جلد دہم ۵۱۷ خطبہ نکاح ۹ جنوری ۱۹۷۰ء احمدی بھائیوں کی فراست اور علم نے باوجود ان کے ان پڑھ ہونے کے میری طبیعت پر بڑا گہرا اثر کیا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سٹھیالی ( نزد قادیان) کے ایک احمدی دوست تھے جو سٹھیالی کے لحاظ سے اچھے زمیندار تھے اور عادتا سفید پوش تھے اب وہ فوت ہو گئے ہیں وہ احمدیت اور اسلام کا اتنا گہرا علم رکھتے تھے کہ ایک جلسہ کے موقع پر بعض نوجوان طالب علم ( یو نیورسٹی اور کالجز کے ) قادیان آئے ہوئے تھے اور وہ اپنے بعض غیر احمدی دوستوں کو بھی ساتھ لائے تھے۔طلباء کی آپس میں بحث ہوئی تو ہمارا ایک بی۔اے کا طالب علم ایک سوال کا جواب نہ دے سکا اور اس نے کہا میں اپنا کوئی مولوی لاتا ہوں وہ تمہیں اس سوال کا جواب دے گا۔چنانچہ وہ ساتھ والے کمرہ میں گیا اور اس نے دیکھا کہ ایک سفید پوش آدمی ہیں۔داڑھی انہوں نے رکھی ہوئی ہے اور شخصیت بڑی بارعب ہے۔اس نے سمجھا کہ یہ کوئی عالم ہیں اس لئے اس نے انہیں مخاطب کر کے کہا میں بحث کے دوران لا جواب ہو گیا ہوں میں ایک سوال کا جواب نہیں دے سکا آپ تشریف لائیں اور اس سوال کا جواب دیں۔چنانچہ وہ دوست اس طالب علم کے ساتھ گئے اور اس غیر احمدی دوست کی اس مسئلہ کے متعلق تسلی کر دی۔ہماری پنجابی زبان میں ایک مثل مشہور ہے مچلا جٹ۔یہ مثل دنیوی طور پر تو درست ہوسکتی ہے لیکن ایک زمیندار (اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جو دیہات میں رہتا ہے اور کا شتکاری کرتا ہے۔چاہے اس کی زمین ہو یا نہ ہو ) کو اللہ تعالیٰ نے ایسی فراست دی ہے کہ بعض دفعہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور پھر آگے ان میں سے بہت سے فدائی نکلے ہیں بیسیوں دفعہ میں نے باہمی نجشیں دور کرنے کے سلسلہ میں کھیت میں جاکر اور زمین پر بیٹھ کر زمینداروں سے باتیں کی ہیں میں نے دیکھا کہ منٹوں میں جھگڑے ختم ہو جاتے تھے۔میری ان باتوں کا ان پر خاصہ اثر ہوتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بڑی غیرت رکھنے والے حساس دل دیئے ہیں اور بڑی پیاری روحیں انہیں ملی ہیں۔بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ میرے محترم بزرگ چوہدری فتح محمد صاحب سیال کا مجھ پر بہت احسان تھا کہ انہوں نے مجھے میری اس چھوٹی عمر میں اور نا تجربہ کاری کی عمر میں اپنے ساتھ لے جا