خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 158
خطبات ناصر جلد دہم ۱۵۸ خطبہ عید الاضحیہ ۲۷ / جنوری ۱۹۷۲ء لیکن اس فرق کے باوجود ہم نے ایک تاریخ مثلاً یکم جنوری مقرر کر دی۔اب ساری دنیا میں یکم جنوری کی تاریخ کارفرما ہے۔یعنی ساری دنیا میں ایک ہی دن ہے جسے ہم یکم جنوری کہتے ہیں۔ویسے اس کے آگے اصول بنادئے گئے ہیں یعنی سورج نکلنے کے اوقات میں اختلاف کے نتیجہ میں جو مسائل پیدا ہوتے تھے ان کو قانون قدرت کی روشنی میں یا مصنوعی طور پر حل کر دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنی سہولت کے لئے اس کائنات کی ہر چیز کی تسخیر کرے اور اسی حق کے نتیجہ میں انسان اپنی سہولت کے لئے زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کو اس طرح تسخیر کرتا ہے کہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے اس میں گا جر ا گا لیتا ہے۔پس صرف مکان کی تسخیر ہی نہیں۔بلکہ زمان کی تسخیر بھی انسان کا حق ہے کیونکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے اس لئے ہر چیز انسان کے لئے مسخر کی گئی ہے۔چنانچہ انسان اپنی سہولت کے لئے زمانے کو بھی مسخر کرتا ہے۔اسی لئے ہمارے یہ سارے اوقات یعنی کیلنڈر وغیرہ میں بہت کچھ مصنوعی ہے یعنی جسے انسان نے اپنے لئے مسخر کیا ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس دنیا کے دن کی ابتدا کہاں سے ہو۔کیونکہ دنیا تو ایک مسلسل چکر میں ہے۔اس سلسلہ میں کل میں ابوالعطاء صاحب سے بات کر رہا تھا تو یہ کہنے لگے کہ جو ملک ہمارے مغرب میں ہے وہاں چاند کے نظر آنے کا امکان زیادہ ہے کیونکہ ان کو آدھ گھنٹے کا زیادہ وقت مل جاتا ہے۔یعنی جس جگہ سورج آدھ گھنٹے بعد غروب ہوتا ہے۔وہاں گو یا آدھ گھنٹے کا وقت اور مل گیا۔میں نے کہا کہ جہاں سورج نے دو گھنٹے بعد غروب ہونا ہے انہیں دو گھنٹے وقت مل گیا۔اس طرح گو یا جدہ والوں کو چاند دیکھنے کا پاکستان سے دو گھنٹے زیادہ وقت مل گیا اور جو ملک جدہ سے تین گھنٹے مغرب میں ہیں وہاں جدہ کی نسبت سے تین گھنٹے زیادہ اور ہماری نسبت سے پانچ گھنٹے زیادہ وقت مل گیا اور امریکہ ہم سے مغرب میں ہے جہاں کے وقت کا فرق بارہ گھنٹے کا ہے اس لئے امریکہ والوں کو بارہ گھنٹے کا زیادہ وقت مل گیا اور امریکہ سے آسٹریلیا مغرب میں ہے تو آسٹریلیا میں رہنے والوں کو اس سے بھی زیادہ وقت مل گیا پھر آسٹریلیا سے برما زیادہ مغرب میں ہے اس لئے برما میں رہنے والوں کو اس سے بھی زیادہ وقت مل گیا اور برما سے پاکستان مغرب