خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 159
خطبات ناصر جلد دہم ۱۵۹ خطبہ عید الاضحیہ ۲۷ / جنوری ۱۹۷۲ء میں ہے اس لئے پاکستان کو اس سے بھی زیادہ وقت مل گیا۔پس یہ دلیل تو ٹھیک نہیں بنتی۔اس واسطے انسانی عقل نے اس کو توڑا ہے یعنی وقت کو بھی انسان نے مسخر کیا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس وقت دن کی ابتدا کسی جگہ سے مقرر کر دی گئی ہے یعنی یہ اصول بنادیا گیا ہے کہ اتنی ڈگری پر سے دن شروع ہو گا اور پھر اس کے مطابق دن کے اوقات کا چکر چلتا جائے گا۔میں یہ کہتا ہوں اور میرے دل میں بڑی زبردست خواہش پیدا ہوئی ہے کہ دن کی ابتدا مکہ مکرمہ سے ہونی چاہیے اور اس سلسلہ میں عالم اسلام کو آپس میں تعاون کرنا چاہیے۔دنیا کی جہاں سے مرضی ہو دن کی ابتدا کرتی رہے۔ہم اپنے مسائل کے حل کرنے کے لئے دن کی ابتدا مکہ مکرمہ کے وقت سے کریں گے۔ایک اور بات یہ ہے ( میں اس وقت بہت ساری باتیں ایک دو تین چار کر کے بتا رہا ہوں اور پھر اس کے بعد ایک نتیجہ نکالوں گا کہ ہماری عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی اور ہمارے دل اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ مکہ مکرمہ میں عید الاضحیہ کے موقع پر جانوروں کی جو قربانیاں کی جاتی ہیں ہم اپنی قربانیاں ان سے ایک یا دو دن پہلے کر دیں۔میں تو جب سوچتا ہوں تو میری طبیعت میں اس سے بڑا انقباض پیدا ہوتا ہے۔میرے ایک دوست میرے ان خیالات سے متفق نہیں ہورہے تھے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ یہ بتائیں کہ کیا آپ کا دل یہ چاہتا ہے کہ ہم یہاں مکہ مکرمہ میں ہونے والی قربانیوں سے پہلے قربانیاں دے دیں وہ کہنے لگے کہ یہ تو دل نہیں کرتا۔پھر میں نے کہا کہ میرا یہ بھی دل نہیں کرتا کہ ہم ان کے بعد میں قربانیاں دیں۔بلکہ دل یہ چاہتا ہے کہ ہم بھی اسی دن ان کے ساتھ ساتھ قربانیاں دیں۔شاید وقت کے لحاظ سے تو ایسا ممکن نہ ہولیکن ہم پہلے بہر حال نہیں دیں گے البتہ بعد میں جو قربانی دینی ہے وہ یا تو اسی دن ہو سکتی ہے۔یادراصل جو زمین کی گردش ہے اس کے نتیجہ میں ممکن ہے اگلا دن آجائے لیکن مکہ مکرمہ کی عید الاضحیہ سے پہلے کہیں بھی عید نہیں ہونی چاہیے اور یہ ساری تفصیل اس وقت طے ہو سکتی ہے کیونکہ سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ہم اس کا ایک چارٹ بنا کر دے سکتے ہیں۔اس لئے میں جس کو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے نہ یہ کہ میری کوئی خوبی دیکھ کر جماعت احمدیہ کا امام بنایا ہے ( میں نے یہ ساری