خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 81
خطبات ناصر جلد دہم ΔΙ خطبہ عیدالفطر ۲۵ ستمبر ۱۹۷۶ء اسلام کے موعود عالمگیر غلبہ کی شکل میں ایک عظیم الشان عید مقدر کی گئی ہے خطبہ عید الفطر فرموده ۲۵ ستمبر ۱۹۷۶ء بمقام مسجد فضل لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے قرآن مجید کی حسب ذیل آیات تلاوت کیں۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ أَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنْتُمْ تُوعَدُونَ - نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهى اَنْفُسُكُم وَ لَكُمْ فِيهَا مَا تَدَعُونَ - نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ - ( حم السجدة : ۳۱ تا ۳۳) ترجمہ۔وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے پھر مستقل مزاجی سے اس عقیدہ پر قائم ہو گئے ان پر فرشتے اتریں گے یہ کہتے ہوئے کہ ڈرو نہیں اور کسی پچھلی غلطی کا غم نہ کرو اور اس جنت کے ملنے سے خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ہم دنیا میں بھی تمہارے دوست ہیں اور آخرت میں بھی تمہارے دوست رہیں گے اور اس (جنت) میں جو کچھ تمہارے جی چاہیں گے تم کو ملے گا اور جو کچھ تم مانگو گے وہ بھی تم کو اس میں ملے گا۔یہ بخشنے والے اور بے انتہا کرم کرنے والے خدا کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہوگا۔