خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 855
خطبات ناصر جلد دہم ۸۵۵ خطبہ نکاح ۱۰ رمئی ۱۹۸۲ء جو قادیان میں پیدا ہوتی تھی۔کچھ بارشیں بھی میرے خیال میں وہاں زیادہ ہوتی تھیں۔ڈھاب پڑ جاتی تھی اور ریتی چھلا جہاں اب بہت سے مکانات بن گئے ہیں اور وہ علاقہ بڑا آباد ہوگیا ہے۔ایک با قاعدہ بہت بڑا تالاب یا جھیل بن جاتی تھی۔اڑھائی، تین ، ساڑھے تین فٹ پانی اس میں ہوتا تھا۔چنانچہ اس جھیل میں برسات کے دنوں میں حضرت ماموں جان رضی اللہ عنہ کی ایک آپ بنائی ہوئی کشتی ہمیں چلتی نظر آتی تھی۔گیلیاں لے کر کرایہ پر یا ویسے لے کر یہ تو میں نے اس وقت کبھی غور نہیں کیا اس زندگی میں بہر حال گیلیوں کو آپس میں باندھ کر اور اس کے اوپر چار پائیاں رکھ کر اور اس میں بچوں کو بٹھا کر ( اور ہمیں بھی بہت دفعہ بٹھایا ) ڈھاب کے اندر پھر رہے ہیں۔جس طرح بہت بڑی جھیل میں آدمی سیر کر کے اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں پر خوشی منا رہا ہوتا ہے اسی طرح آموں کا زمانہ ہوتا تو وہاں آم کھائے جارہے ہیں یا خربوزے ہیں پکنک گھر کے ساتھ لگی ہوئی۔رہائش کے ساتھ ہی وہ تھا۔پس جو غیر کی نگاہ میں ایک معمولی سی چیز تھی وہ اس بندہِ خدا کی نگاہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی عطا تھی۔ان سے وہ پوری لذت اور سرور اور خوشی اور میلے کا سماں پیدا کر کے مزہ حاصل کر رہے ہوتے تھے۔واقف زندگی بھی تھے اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں پر پوری طرح حقیقی معنی میں شکر گزار بھی تھے۔صرف یہ نہیں کہ قربانی دینے کا احساس ہو۔جو شخص حقیقی قربانی کرنے والا ہوتا ہے اس کو قربانی کا احساس نہیں ہوتا۔اس کو تو خدا تعالیٰ کے فضلوں کا احساس ہوتا ہے۔کسی کا اظہار کم ہوتا ہے کسی کا زیادہ ہوتا ہے۔اس Piont پر ہمیں یہ اظہار بہت زیادہ نظر آتا تھا۔بچپن کی یہ بہت ساری یادیں ہیں۔جن میں یہ یاد اس وقت بہت شدت سے ابھری اور میرے سامنے آئی اور وہ ہے ان کی سادہ زندگی ، خوشحال زندگی اور وہ اپنے رب سے راضی زندگی۔ا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاؤں کو سنا اور اپنے ساتھ ان کے پیار کو دیکھ کر ان کے تینوں بچوں کو وقف کرنے کی توفیق عطا کی۔تینوں کی طبیعت ایک دوسرے سے مختلف ہے جیسا کہ ہر انسان دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے لیکن اس چیز میں جہاں تک میں نے غور کیا تینوں میں ایک ہی چیز پائی جاتی تھی یعنی جو کچھ خدا نے دیا، جتنا دے دیا اس پر انسان کو راضی رہنا ہی نہیں