خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 856
خطبات ناصر جلد دہم ۸۵۶ خطبہ نکاح ۱۰ رمئی ۱۹۸۲ء بلکہ خوش رہنا چاہیے۔ان دو میں بڑا فرق ہے۔سید میر داؤد صاحب اپنے رنگ کے تھے لیکن یہ چیز ان میں پائی جاتی تھی۔میر مسعود آج کل کافی عرصہ سے ڈنمارک میں تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔وہ اپنے رنگ کے ہیں لیکن یہ چیز ان میں بھی پائی جاتی ہے اور ان کے چھوٹے بھائی میر محمود احمد جن کے بچے کے نکاح کا میں ابھی اعلان کروں گا وہ اپنے رنگ کے واقف ہیں لیکن یہ چیز ان میں کامن ( Common) ہے۔ان کے باپ کا یہ ورثہ پوری نسل میں آگے چلا۔خدا تعالیٰ نے حضرت ماموں جان رضی اللہ عنہ کی اولاد پر بڑا فضل کیا۔اس واسطے جماعت کے لئے جو یہ نمونہ بھی قائم ہوا۔اور جماعت کے سامنے یہ ہر حالت میں ہنستے اور بشاش چہرے بھی آئے جو ہر وقت خدا تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنتے ہوئے اس کی حمد کے ترانے گاتے ہوئے اپنی زندگی کے دن گزارنے والے ہیں جماعت کے اوپر یہ فرض ہے کہ ان کی اگلی نسل کے لئے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو صحیح معنی میں اپنے آباؤ اجداد کا وارث بنائے اور وقف کی حقیقی روح ان میں پیدا کرے۔اس دعا کے ساتھ اب میں نکاح کا اعلان کرتا ہوں۔عزیز ہ مکرمہ در ثمین احمد صاحبہ جو مکرم محترم مرزا مجید احمد صاحب ربوہ کی صاحبزادی ہیں کا نکاح عزیزم مکرم سید شعیب احمد صاحب ابن مکرم محترم سید محمود احمد صاحب ناصر حال ساکن امریکہ سے پچیس ہزار روپے مہر پر قرار پایا ہے۔لڑکی کے ولی اس کے والد یہاں موجود ہیں۔لڑکا عزیزم سید شعیب احمد آج کل امریکہ میں ہے۔اس لئے اس کی طرف سے ان کے والد مکرم محترم سیدمحموداحمد ناصر اس نکاح میں بطور وکیل یہاں موجود ہیں۔اس کے بعد حضور انور نے ایجاب و قبول کرایا اور پھر اس رشتہ کے بہت ہی بابرکت ہونے کے لئے حاضرین سمیت دعا کرائی۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )