خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 844
خطبات ناصر جلد دہم ۸۴۴ خطبہ نکاح ۱۱ را پریل ۱۹۸۲ء بیوی پہلے چلی جاتی ہے اور خاوند پیچھے رہ جاتا ہے۔جولوگ خدا تعالیٰ کے پیارے ہیں ان کی اس اجتماعی زندگی یعنی میاں بیوی کی ، زوجین کی زندگی پر اگر نظر ڈالیں تو ہم اچھی طرح جانتے ہیں اور شناخت کرتے ہیں کہ رہنے والی نے اس مشن کو اکیلا رہتے ہوئے بھی پوری طرح ادا کیا جو ہر دو پہلے پورا کر رہے تھے اور اگر خاوند رہ جائے اکیلا ، تو چونکہ ذمہ داری کا بعض لحاظ سے خاوند پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔اس لئے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ایک ساتھی ہو جو ہاتھ بٹائے اور فکروں کو دور کرنے والا اور تسکین پیدا کرنے والا اور طمانیت پیدا کرنے والا ہو۔منصورہ بیگم کی وفات کے بعد دو جہات سے مجھے بڑا کرب رہا۔ایک ان کی جدائی کا اور ایک اس حقیقت کے احساس کی وجہ سے کہ ان کی جدائی کے نتیجہ میں میں اس سکون کے ساتھ اور بے فکری کے ساتھ اپنی اس اہم ذمہ داری کو ادا کرنے میں کوتاہی یا غفلت تو نہیں برت رہا ہوں۔میری دو حیثیتیں ہیں ایک مرزا ناصر احمد کی حیثیت ہے۔مرزا ناصر احمد ہی اگر ہوتا دنیا میں تو کسی نئی شادی کی ضرورت نہیں تھی لیکن دوسری حیثیت ہے جماعت احمدیہ کے خلیفہ ہونے کی جس پر جماعت احمدیہ کے مردوں اور جماعت احمدیہ کی عورتوں کی تربیت کی ذمہ داری بھی ڈالی گئی ہے۔چنانچہ اس احساس کی آگ جہاں میرے اندر سلگتی رہی اور بڑی مشکل تھی میرے لئے وہاں امریکہ سے لے کے دنیا کے دوسرے کنارے تک جماعت احمدیہ میں یہ احساس پیدا ہوا کہ دوسری شادی کرنی چاہیے۔مردوں نے بھی خط لکھے۔عورتوں کی طرف سے بھی مطالبہ آیا کہ خلیفہ وقت کی بیوی، خلافت اور جماعت احمدیہ کی مستورات کے درمیان ایک قسم کا گشن (Cushion) ہوتی ہے وہ تعلق پیدا کرتی ہے۔جب اور جن حالات میں اور بسا اوقات یہی حالات ہوتے ہیں کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے ہر دو اکٹھے مستورات سے ملاقات نہ کر سکتے ہوں تو جماعت کی دوا مستورات خلیفہ وقت کی بیوی سے ملاقات کرتیں اور اس سے مشورہ لیتیں۔اس کو اپنا دکھ درد بتا تیں۔دعا کے لئے کہتیں اور وہ آگے پہنچا دیتی۔خود بھی دعا کرنے والی اور دعائیں لے کر آگے تقسیم کرنے والی بھی بن جاتی لیکن اس میں جو مشکل پیش آسکتی ہے اور میرے سامنے بھی آئی ، وہ