خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 839
خطبات ناصر جلد دہم ۸۳۹ خطبہ نکاح ۲ جنوری ۱۹۸۲ء اسلام کی رو سے انسانی زندگی بے مقصد نہیں ہے خطبہ نکاح فرموده ۲ / جنوری ۱۹۸۲ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر از راہ شفقت دو نکاحوں کا اعلان فرمایا جن کا تعلق خاندان حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہے۔اس موقع پر حضور نے آیات مسنونہ کی تلاوت کے بعد یہ آیات بھی پڑھیں۔تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ - وَالَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوة لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (الملك : ٢ ، ٣) پھر حضور انور نے فرمایا کہ بڑی ہی برکتوں والا ہے وہ وجود جس کے قبضہ قدرت میں حاکمیت ہے۔حکومت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔اور اس کی عظیم برکتوں کا مظاہرہ اس صداقت میں بھی ہے کہ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوة کہ اس نے ایک نظام موت جاری کیا اس کا ئنات میں اور ایک نظام حیات جاری کیا۔یہاں الموت ہے۔الموت قرآن کریم کی اصطلاح میں دو معنوں میں ہے۔ایک عدم سے وجود میں لانا اور ایک ایسی موت جس کے بعد ابدی زندگی کا حصول مقدر ہے انسان کے لئے۔