خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 800
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۱۳ را پریل ۱۹۷۹ء کھلونے ان کو مل جاتے ہیں کہ وہ پرزے یا چھوٹی چھوٹی پتیاں جوڑ کے موٹر کار کی شکل کی ایک چیز بنا دیتے ہیں یا پانی نکالنے والا کنواں یا ہوائی جہاز یا مکان اس قسم کی چیزیں وہ بنا لیتے ہیں۔ہمارے ملک میں خصوصاً دیہات میں ان چیزوں کا علم نہیں۔یورپ اس میں بڑا آگے نکل گیا ہے۔بچوں کے کھلونے بجلی سے چلنے والے بن گئے۔بچوں کے کھلونے خود بخود چلنے اور خود بخود ٹھہر کے پھر چلنے والے بن گئے۔علم کا حصہ بچوں کے کھلونے میں ہی آ گیا بہر حال اس عمر کے لحاظ سے کوئی ایسی زیادہ خوشی کی بات حقیقی خوشی کی بات نہیں۔لیکن حقیقی خوشی کی طرف ایک قدم انسان نے اٹھالیا۔پہلے مذہب سے باہر لیکن اب ( اس وقت تو باقی مذاہب کی انسان کو ضرورت نہیں رہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو چکے ہیں اس واسطے میں کہوں گا ) اسلام سے باہر جو خوشیوں کے تہوار انسان بناتا ہے۔اس میں جو اہم چیز ہمیں نظر آتی ہے وہ یہ کہ انسان بھول جانے میں خوشی کا سامان پیدا کرتا ہے نا معقول بات ہے لیکن وہ کر رہا ہے۔یعنی ترقی پذیر ممالک جو ہیں اور ترقی یافتہ اقوام جو ہیں وہ ایسے تہواروں میں مثلاً شراب میں مست ہو جا ئیں گے بالکل کوئی ہوش ان کو نہیں رہے گی اور یہ ان کی خوشی کا سامان ہے اپنے آپ کو بھی بھول جانا۔اپنے ماحول کو بھی بھول جانا یا ایسی حرکتیں کرنا۔جن میں نہ کوئی علمی پہلو ہے نہ اخلاقی۔مثلاً ناچنے لگ جانا۔ہر ملک نے اپنے اپنے ناچ بنائے ہوئے ہیں ایسے تہواروں پر وہ اس طرح خوشی مناتے ہیں۔پس اسلام سے باہر ہر خوشی جو ہے وہ جھوٹی خوشی ہے۔سچی خوشی صرف اسلام میں ہمیں نظر آتی ہے کیونکہ اسلام نے کہا کہ خوشی کا وہ موقع ہے جب خدا تعالیٰ کے پیار کا جلوہ تمہارے اوپر ظاہر ہو۔اس وقت تم خوش ہو اور اس وقت تم خوشی سے اچھلو اور خوشی کا اظہار کرو اور تمہارے چہرے پر مسکراہٹیں آئیں۔تم اچھے کپڑے پہنو۔اس دن تم اچھے کھانے کھاؤ جس طرح عید کا دن ہے۔جو رمضان کے بعد آتا یا حج کی عید ہے عید الاضحیہ۔وہ اگر چہ ایک علامت ہے۔کیونکہ اس دن جس کے روزے قبول ہوئے وہ بھی اور جس کے روزے قبول نہ ہوئے وہ بھی عید منا رہا ہے جس کا حج رد کر دیا گیا وہ بھی بڑی عید منارہا ہے یا حج کی خوشی میں دور دراز علاقوں میں جو رہنے والے ہیں وہ قربانی دیتے ہیں۔