خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 722 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 722

خطبات ناصر جلد دہم ۷۲۲ خطبہ نکاح ۹ / مارچ ۱۹۷۶ء مطابق اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو بھی زیادہ حاصل کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شادی سیدوں میں ہوئی۔میری دادی حضرت أم المؤمنین رضی اللہ عنہا جن کی گود میں میں نے بھی پرورش پائی ہے۔ان سے تعلق رکھنے والا خاندان یعنی ان کے ایک بھائی کی نواسی اور نواسے کے نکاح کا آج اعلان ہوگا۔لیکن دوسری طرف سے دلہن حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کی پڑپوتی ہے ایک طرف سے حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے رشتے سے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ کا نواسا دولہا ہے اور حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے بیٹے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی پوتی دلہن ہے۔اس طرح گویا سیدوں سے بھی تعلق ہے ہر دو طرف کا اور مہدی علیہ السلام سے بھی تعلق ہے۔رشتے میں ہر دوطرف کا۔اس لحاظ سے ان پر بڑی ذمہ داریاں ہیں۔خوشی تب ہوتی ہے جب ہم ذمہ داریوں کو ادا کرنے والے ہوں اور خدا کرے کہ ہم ذمہ داریوں کو ادا کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اس پیاری بچی امتہ العلیم کے والد میرے چھوٹے بھائی مرزا وسیم احمد صاحب کو قادیان میں نوع انسانی کی اس رنگ میں بھی خدمت کی توفیق عطا فرمائی ہے کہ وہ اپنے باقی بہت سے درویشوں کے ساتھ بیٹھ کر مہدی علیہ السلام کے مرکز کی حفاظت کر رہے ہیں۔یعنی جماعت کا جو اصل مرکز ہے اس کو آبادرکھنے کی اور وہاں کے لوگوں کی خدمت کی اللہ تعالیٰ نے ان کو تو فیق عطا فرمائی ہے۔جہاں تک خدمت کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تعلق رکھنے والے کسی فرد کی خدمت صرف اس وجہ سے کہ آپ علیہ السلام کے ساتھ اس کا تعلق ہے کوئی زیادہ شان دار نہیں ہو جاتی لیکن خدمت خود اپنے اندر ایک حسن رکھتی ہے۔کوئی شخص جتنی خدمت کرتا ہے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ اتنا ہی پیارا بن جاتا ہے۔ایک سے ایک بڑھ کر فدائی وہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔انہوں نے بڑی تکالیف اٹھا کر اس مقام کے احترام کو قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے اور ان کی نسلوں پر اپنی برکتیں نازل کرے۔عزیزہ بچی امتہ العلیم بیگم بھی انہی میں سے ہے۔جس کے نکاح کا اس وقت اعلان ہوگا اور اس لحاظ سے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ باقیوں کے ساتھ اس پر بھی رحمت کی نظر رکھے اور حضرت اُم المؤمنین