خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 686
خطبات ناصر جلد دہم ۶۸۶ خطبہ نکاح ۲۲ دسمبر ۱۹۷۴ء ایک روپے حق مہر پر۔۵- محترمہ شاہدہ نگہت صاحبہ بنت مکرم مرزا ارشد بیگ صاحب لاہور کا نکاح مکرم منیر الحق صاحب شاہد ابن مکرم مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب ربوہ کے ساتھ آٹھ ہزار روپے حق مہر پر۔- محتر مه نویدہ صاحبہ بنت مکرم چوہدری ناصر احمد صاحب ساکن بہلول پورضلع لائلپور کا نکاح دس ہزار روپے حق مہر پر مکرم نعیم الدین احمد صاحب ابن مکرم چوہدری صلاح الدین احمد صاحب ربوہ سے۔ے۔محترمہ بشری بیگم صاحبہ بنت مکرم چوہدری عنایت اللہ صاحب چک نمبر ۸۸ ج۔ب ضلع لائلپور کا نکاح سات ہزار روپے حق مہر پر مکرم شفقت محمود صاحب ابن مکرم چوہدری محمد اعظم صاحب ساکن سمبر یال ضلع سیالکوٹ سے۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔دوست جانتے ہیں کہ پچھلے ماہ کی ۲۶ / تاریخ سے میں بیمار پڑا ہوں بیماری کے یکے بعد دیگرے دو حملے ہوئے۔دوسرا حملہ تو پہلے سے بھی زیادہ سخت تھا۔چنانچہ وائٹ سیلز (white cells) جو انفیکشن کی علامت ہوتے ہیں، وہ پہلے حملہ میں گیارہ ہزار اور کچھ سو تک پہنچے تھے لیکن بیماری کے دوسرے حملے میں اٹھارہ ہزار سے بھی اوپر نکل گئے۔ڈاکٹر مجھے اینٹی بائیوٹک قسم کی زہریلی دوائیں دیتے رہے ہیں ان دواؤں کے استعمال کے دوران کل پھر وائٹ سیلز بڑھنے شروع ہو گئے جس سے اس بات کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ خدانخواستہ بیماری کا تیسرا حملہ نہ ہورہا ہو۔چنانچہ ایک دن کے بعد ہی آج پھر دوبارہ ٹیسٹ کروایا۔نیز ڈاکٹروں نے ایک دوسری دوائی استعمال کروائی۔اس سے پہلے کی نسبت کچھ فرق پڑا تو ہے لیکن حالت ابھی معمول پر نہیں آئی۔ویسے اللہ کا فضل ہے ہم الْحَمْدُ لِلهِ عَلى كُلِّ حَالٍ کہنے والی قوم ہیں۔قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ انسان خود مریض بن جاتا ہے صحت سے تعلق رکھنے والا کوئی قانون جان بوجھ کر یا بے خیالی میں ٹوٹتا ہے تو انسان بیمار ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ شفا دیتا ہے اس لئے میں بھی دعا کر رہا ہوں۔احباب بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ شافی مطلق ہے وہ اپنے فضل سے شفا عطا فرمائے۔