خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 687 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 687

خطبات ناصر جلد دہم YAZ خطبہ نکاح ۲۲ ؍دسمبر ۱۹۷۴ء یہ عرصہ جو میں نے بیماری میں کاٹا ہے اس میں خلیفہ وقت ہونے کی حیثیت میں مجھ پر بہت سی موسمی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں مثلاً جلسہ سالانہ کے انتظامات ہیں، ان کی فکر ہوتی ہے۔پھر مضامین کی تیاری کا کام ہے۔اس کے لئے دعائیں کرنی پڑتی ہیں ویسے یہ اللہ تعالیٰ کا بے انتہا فضل ہے کہ وہ ہمیشہ خود ہی مضمون سمجھا دیتا ہے تاہم وہ مضمون کے اصول بتاتا ہے اور چابیاں دیتا ہے پھر انسان کو محنت کرنی پڑتی ہے چنانچہ میں کئی سو حوالے خود ہی نکلوا تا ہوں پھر ان میں سے اپنے مضمون کے مطابق منتخب کرتا ہوں پچھلے سال تو احباب کو یاد ہوگا میں نے کہا تھا کہ اتنے حوالے اکٹھے ہو گئے ہیں کہ ان کا پڑھنا مشکل ہو گیا ہے۔غرض ہر سال ذہن میں ایک مضمون آجاتا ہے مگر اس سال تیاری کا یہ حال ہے کہ ابھی تک ایک مضمون تو واضح طور پر خدا تعالیٰ نے ذہن میں ڈال دیا ہے اور اس کا تعلق خطبہ عید الاضحی سے ہے۔بعد کی تقاریر کا ایک ھیولی سا ہے جو خدا تعالیٰ نے دماغ میں پیدا کیا ہے جسے وہ آہستہ آہستہ ظاہر کر دے گا مگر جو انسان کی کوشش ہے اور جسے ہم تدبیر کہتے ہیں ، وہ حصہ تو بہر حال خالی ہے۔خدا تعالیٰ اپنی قدرت سے اس خالی حصے کو بھی بھر دے گا۔اصل میں تو وہی دیتا ہے اس لئے دوست دعا کریں۔بڑی ذمہ داری ہے۔۲۶ نومبر کے بعد آج پہلے دن باہر نکلا ہوں تو میرے سر میں چکر آرہے ہیں بہت کمزوری محسوس کر رہا ہوں طاقت کا سر چشمہ تو اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اسی کی توفیق سے سب کچھ ہو سکتا ہے۔اس وقت میں سات نکاحوں کا اعلان کروں گا۔ان میں سے تین کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السہ کے خاندان کی نوجوان جسمانی اور روحانی نسل سے ہے اور چار کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روحانی نسل سے ہے۔احباب جانتے ہیں کہ اس وقت جماعت احمد یہ جسے روحانی جنگ کے لئے قائم کیا گیا تھا ایک انتہائی نازک دور میں داخل ہو چکی ہے۔اس وقت تک یا مجھے یوں کہنا چاہیے پچھلے جلسہ سالانہ اور اس جلسے کے درمیان بنیادی طور پر حالات بدل گئے اور بعض بنیادی حقائق ہمارے سامنے آئے۔چنانچہ پچھلے جلسہ سالانہ تک یا اس کے بعد کچھ عرصہ تک جو حقیقت ہمیں نظر آ رہی تھی وہ یہ تھی