خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 636
خطبات ناصر جلد دہم ۶۳۶ خطبہ نکاح ۲۴ جون ۱۹۷۳ء گروہ کے سامنے آتی رہنی چاہیے تھی اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کے موقع پر بالعموم یہ تین آیات پڑھا کرتے تھے۔یہ تین آیات کا مجموعہ اور نکاح کے موقع پر اس کی تلاوت اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں زوجین کے طور پر پیدا کیا ہے۔مرد کو پیدا کیا۔اس سے اس کی زوج کو نکالا۔یہی حقیقت ہے زوجین پیدا کرنے کی اور دوسرے یہ کہ تمہیں مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ کی رو سے آئندہ کا خیال رکھنا پڑے گا اس کی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ تمہیں اپنی قوتوں اور استعدادوں کی نشوونما کے لئے قوائے مؤثرہ کی تلاش کرنی پڑے گی ورنہ تم اپنی زندگی کے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکو گے۔پس نکاح اور اس قسم کے تعلقات وغیرہ کا اصل مقصود زوجین کی شکل میں پیدائش کے مقصد کو پورا کرنا ہے۔دنیا میں ایک بزرگ آتا ہے۔وہ مامور ہوتا ہے۔وہ نبی ہوتا ہے اس سے وابستہ جماعت کو بھی اسلامی اصطلاح میں اس کا ساتھی اور زوج ہی کہا جاتا ہے۔بہر حال یہ مختلف چیزیں یا زندگی کے مختلف پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں (اور اس وقت دو نکاح ہمارے سامنے آئیں گے ) انسان حیران ہوتا ہے لوگوں کی آپس میں شادیاں ہوتی اور رشتے قائم ہوتے ہیں۔ان تعلقات کے قیام کی اصل اور حقیقی غرض آگے نسل چلانا نہیں بلکہ حقیقی غرض یہ یاد دلانا ہے کہ تمہیں زوجین اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تمہاری زندگیوں کا جو یہ مقصد ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک زندہ اور پختہ اور حقیقی تعلق پیدا ہو، تمہاری نظر سے یہ مقصد کبھی اوجھل نہیں ہونا چاہیے ورنہ تمہارے قویٰ کا ایک حصہ شاید نشو و نما پا جائے تو پا جائے لیکن دوسرا حصہ مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔غرض خدا تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ ہم سبھی کو یہ بنیادی حقیقت سمجھنے اور یادر رکھنے کی توفیق عطا ہو۔جن کے نکاحوں کا اس وقت اعلان ہونے والا ہے ان کے لئے تو خاص طور پر ضروری ہے کہ وہ رشتہ ازدواج کی حقیقی غرض کو ہمیشہ مد نظر رکھیں۔اگر مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ“ کی رو سے آئندہ کا خیال رکھنا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ان طاقتوں کی نشو ونما کا خیال رکھنا پڑے گا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت نے ہمیں عطا کی ہیں۔ہمیں اپنے پیدا کرنے والے رب کی طرف رجوع کر کے اس سے ایک پختہ اور حقیقی تعلق پیدا کرنا پڑے گا۔یہی وہ حقیقی سبق اور بنیادی اصول ہے جو خطبہ نکاح کی 66