خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 42 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 42

خطبات ناصر جلد دہم ۴۲ خطبہ عیدالفطر یکم دسمبر ۱۹۷۰ء اور مخصوص امور کا فیصلہ کیا گیا وہ یہ تھا کہ تمام اقوام عالم کو ہر خطہ ارضی پر بسنے والے بنی نوع انسان ایک وحدت میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کے رشتوں سے باندھ کر اللہ تعالیٰ کے قدموں میں اکٹھا کر دیا جائے گا اور اسی طرح بنی نوع انسان کی عزت اور اس کے شرف کے قیام کا انتظام کیا جائے گا۔کامل اور مکمل شکل میں جو تعلیم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اس کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ شرف کا اور عزت کا سامان لے کر آئی ہے اس نے کسی کے ساتھ بخل نہیں کیا بلکہ اس نے سفید کو بھی گندمی اور کالے رنگ والے کو بھی یہ کہا پڑھے ہوئے کو بھی اور علم میں پسماندہ کو بھی یہ کہا کہ اگر تم اس دنیا میں اور اس دنیا میں حقیقی عزت اور شرف حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ تم قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھو اور اسی کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالو۔پس لیلتہ القدر میں اصل تو یہ فیصلہ تھا اور دوسرے یہ فیصلہ تھا اور اس کی علامت یہ بتلائی گئی تھی کہ انسان چونکہ کمزور ہے اور اپنے زور اور طاقت سے کچھ نہیں کر سکتا اس لئے اسے اپنے رب سے تعلق پیدا کر کے طاقت اور قدرت حاصل کرنی پڑے گی۔اور اللہ تعالیٰ کی رحمت جس پر یا جن پر نازل ہوگی وہ فرشتوں کے ذریعہ سے نازل ہوگی اور جب انسان اپنے رب سے تعلق کو قائم کرے گا تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ آسمان سے فرشتے ان پر نازل ہوں گے وہ ان کے لئے بشارتوں کے سامان لے کر آئیں گے وہ ان کے لئے بشاشتوں کے سامان لے کر آئیں گے وہ ان کے لئے اطمینان اور بے خوفی کا پیغام لے کر آئیں گے اور ان کے لئے اپنے ہاتھ میں مدد اور نصرت کے جھنڈے پکڑ کر آسمان سے زمین پر اتریں گے۔قرآن کریم نے اسے تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن کس پر اور کب اتریں گے اس کا تعلق بھی رمضان سے ہے۔میں نے جو دوسری بات بتائی ہے یعنی ایک تو رمضان کا تعلق لیلتہ القدر سے ہے اور رمضان کا دوسرا تعلق انتہائی قربانیوں سے ہے اور جیسا کہ ہمیں پتہ ہے پانچ مختلف اور بنیادی عبادتوں کا تعلق رمضان سے ہے اور ان میں سے ایک اپنے بھائیوں کے ساتھ انتہائی طور پر ہمدردی کا