خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 43 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 43

خطبات ناصر جلد دہم ۴۳ خطبہ عیدالفطر یکم دسمبر ۱۹۷۰ء • سلوک کرنا ہے اور خود کو تکلیف میں ڈال کر اپنے بھائی کی تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کرنا ہے نیز جو کچھ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے یعنی مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرۃ : ۴ ) کی رو سے انسان کو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس کو بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے پانی کی طرح بہا دینا ہے۔اپنا وقت بھی خرچ کرنا ہے اپنا آرام بھی قربان کرنا ہے اپنا مال بھی دینا ہے اور اپنی طرف سے اس بات کی انتہائی کوشش کرنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اپنی غلطیوں کی وجہ سے جب کسی ابتلا میں پڑے تو اللہ تعالیٰ کے بندے ( یعنی ہم جن کا یہ دعوی ہے کہ ہم اس کے عاجز بندے ہیں ) اپنے بھائیوں کی تکالیف دور کرنے کے لئے ہر قسم کی قربانی دے دیں گے۔مگر ہر قسم کی قربانی دی نہیں جاسکتی جب تک اللہ تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق قائم نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت اور اس کے فضل اور رحمت کو اسی کے فضل اور رحمت سے حاصل نہ کیا جائے کیونکہ انسان کا کہیں بھی زور نہیں چلتا۔پس رمضان المبارک کے ساتھ ایک تولیلۃ القدر کا تعلق ہے اور دوسرے رمضان کے ساتھ انتہائی قربانیوں کا تعلق ہے اور اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ایک اور لیلۃ القدر مقرر کر دی ہے۔میں نے بتایا تھا کہ اصل اور حقیقی لیلۃ القدر کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہے اس وقت آسمانوں پر بنی نوع انسان کے لئے کچھ فیصلے کئے گئے تھے جن میں بنیادی فیصلہ یہ تھا کہ انسان کی عزت اور شرف کو بلند کیا جائے گا اور اس کو یہ موقع میسر آئے گا کہ وہ پہلوں کی نسبت زیادہ تر معرفت حاصل کرے اور زیادہ بصیرت کے ساتھ اللہ کی صفات کو پہنچانے اور اس کے حسن و احسان کے نور سے حصہ لے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے انسان کو ایک کامل اور مکمل تعلیم دے دی گئی ہے پہلوں کو ایسی تعلیم نہیں دی گئی تھی صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ایسی کامل تعلیم انسان کو دی گئی اس سے ہمیں یہ پتہ لگتا کہ انسانی شرف کی بلندی کے لئے دوزمانے مقدر تھے ایک وہ زمانہ جب لیلۃ القدر میں یہ فیصلہ ہوا کہ پہلی تین صدیوں میں اس وقت کی معروف دنیا میں انسانوں کو زمین سے اٹھا کر آسمانوں تک پہنچا دیا جائے گا اور دوسرا اسی لیلتہ القدر میں یہ فیصلہ بھی