خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 631 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 631

خطبات ناصر جلد دہم ۶۳۱ خطبہ نکاح ۱/۲۰ پریل ۱۹۷۳ء کو مانتے ہیں جس کو اولا گھر والے بھی نہیں پہچانتے تھے۔اور اس پر ابھی زمانہ بھی کیا گذرا ہے۔تھوڑ اسا زمانہ ہے کیونکہ ہمیں جو بشارت دی گئی ہے۔وہ تین صدیوں پر مشتمل ہے۔یعنی تین صدیاں نہیں گذریں گی کہ تمام دنیا میں اسلام غالب آ جائے گا تاہم ہمارا اندازہ ہے ( بہت سی پیشگوئیوں اور بشارتوں پر یکجائی نظر ڈالتے ہوئے کہ ) خدا کرے کہ یہ صحیح ہو بہر حال یہ ہماری تعبیر و تشریح ہے کہ ان بشارتوں کے پورا ہونے میں شاید سوسوا سو سال کا عرصہ نہیں گذرے گا کہ اسلام کے حق میں ایک بہت بڑا انقلاب نمایاں ہو کر دنیا کے سامنے آجائے گا۔اس لحاظ سے میرے نزدیک اگلے ہیں پچیس سال بڑے اہم ہیں۔اس عرصہ میں اسلام کے عالمگیر غلبہ کے ضمن میں ایک انقلاب عظیم بپا ہونے کی توقع ہے۔پس جو بات نکاح کے ساتھ تعلق رکھتی ہے (اب میں پھر اصل مضمون کی طرف عود کرتا ہوں ) وہ یہ ہے کہ زندگی اور موت ہر دو مقصود تخلیق عالم نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس عالمین کو پیدا کیا اور ساتھ ہی یہ اعلان کرایا۔لولاك لما خَلَقْتُ الْأَفَلَاكَ کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے وجود کو پیدا نہ کرنا ہوتا تو اس کا ئنات کو معرض وجود میں لانے کی ضرورت نہ ہوتی۔اور یہ اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا وہ مبارک وجود ہے اور آپ ہی وہ افضل الرسل ہیں جنہوں نے اس عالمین کو پھلا نگ کر عرش رب کریم تک پہنچنا تھا۔معراج میں آپ کو یہی دکھایا گیا تھا کہ گویا آپ نے ساتواں آسمان بھی پار کیا یعنی تمثیلی زبان میں اس عالمین کو پار کیا اور سدرۃ المنتہیٰ یا عرش رب کریم تک جا پہنچے۔یہی وہ اعلیٰ مقام ہے جو آپ کو معراج میں دکھایا گیا تھا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عالمین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔کیونکہ آپ اپنی روحانی قوتوں اور استعدادوں کے مطابق ایسی ایسی روحانی رفعتیں حاصل کریں گے کہ گویا سارے عالمین کو پیچھے ، چھوڑ جائیں گے اور عرش رب کریم تک جا پہنچیں گے۔آپ کا مقام عرش رب کریم ہو گا۔غرض انسان کو اس غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اپنی روحانی قوتوں اور استعدادوں کو بروئے کار لاتے ہوئے روحانی رفعتیں حاصل کرے اور خدا کا مقرب بندہ بنے۔اسی غرض