خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 33 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 33

خطبات ناصر جلد دہم ۳۳ خطبہ عیدالفطر ۱۲؍ دسمبر ۱۹۶۹ء پاگل بھی اپنی عقل کے مطابق مناتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے یہاں اس آیت میں ہمیں حکم دیا ہے کہ اپنے آپ کو خوشیوں سے بھر لو اور عید مناؤ۔اس لئے کہ دو قسم کے عید کے سامان آج تمہارے لئے پیدا کئے گئے ہیں ایک معرفت الہی کا سامان جیسے فرمایا إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ اس میں عرفان الہی کے سامان کی طرف اشارہ ہے کہ وہ لوگ جو عَلَى وَجْهِ الْبَصِيرَت یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے رب کی معرفت اپنی استعداد کے مطابق حاصل کی اور ہم دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم سب کا رب وہ ہے جس نے ہمیں پیدا کیا جس نے ہمارے جسموں کو اور ہماری روحوں کو اور جس نے ہمارے جسم کے مختلف خواص اور ہماری روح کی مختلف صفات کو پیدا کیا اور جوان صفات اور ان خواص کو پیدا کرنے کے بعد ان خواص اور ان صفات کو ان کے دائرہ استعداد میں اور ان کی نشوو نما کو کمال تک پہنچانے کا متکفل ہوا اور ذمہ وار بنا۔وہی ہمارا رب ہے اس کے علاوہ ہمارا کوئی اور رب ہو ہی نہیں سکتا۔عقلاً بھی نہیں ہو سکتا اور پھر فطرت انسانی بھی اس کو دھتکارتی ہے اور جو وحی آسمانی اللہ تعالیٰ نے نازل کی اس سے تو ہمارے سامنے یہ چیزیں بڑی وضاحت کے ساتھ آجاتی ہیں کہ دینا اللہ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور وہ ہستی جو تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور جس کے اندر کوئی عیب نہیں پایا جاتا ہی ربوبیت کا سزاوار ہے اور اہل اور مستحق ہے اور اسی کو رب سمجھنا چاہیے اور رب اپنے وجود میں محسوس کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی پہچان خوشی کے سامانوں کا ایک ذریعہ بنتا ہے کیونکہ یہ ایک ابتدائی اور بنیادی چیز ہے بلکہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ سب سے بڑا سامان ہماری خوشیوں کا یہی ہے کہ اپنے اس رب کو پہچانے لگیں اور اس کا عرفان رکھنے لگیں جو رب بھی ہے اور دیگر بہت سی صفات حسنہ سے متصف ہے اور جب اس کا حسن ہم پر جلوہ گر ہوتا ہے تو ہمارے ذہن دنیا کی ساری خوبصورتیوں کو بھول جاتے ہیں اور جب ہم اس کے احسان کو پہچاننے لگتے ہیں تو ہم اس حقیقت کو پاتے ہیں کہ وہی ایک محسن حقیقی اور معطی حقیقی ہے اور جتنے دوسرے وجود بظاہر ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ وہ دوسروں پر احسان کر رہے ہیں وہ بھی اسی کی توفیق ، اسی کے منشا اور حکم سے احسان کی طاقت اور قوت پاتے ہیں ورنہ خود ان کے اپنے وجود میں کوئی بھی ایسا ہنر اور قابلیت نہیں