خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 32 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 32

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عیدالفطر ۱۲؍ دسمبر ۱۹۶۹ء گیا ہے کہ ایک خاص زمانہ اور وقت میں انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت میں انہماک کے بعد ایک وقتی انعام پائے اور اس انعام کی خوشی میں وہ اپنی مسرت کا اظہار کرے فطرت کے اندر جو خوشی منانے کا جذبہ ہے وہ مٹ نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ فطرت کا ایک حصہ ہے لیکن اس جذ بہ کے اظہار کے خدا کے بتائے ہوئے جو مواقع تھے وہ انسان ہمیشہ ہی بھولتا رہا ہے۔ہر نبی نے اپنی امت پر بعض ذمہ داریاں ڈالیں اور پھر ان کے لئے عید اور خوشی کے سامان بھی پیدا کئے وہ خوشی تو مناتے رہے اور آج تک منا رہے ہیں لیکن جو ذمہ داریاں ان پر عائد کی گئی تھیں ان کو وہ بھلا بیٹھے اور جس وجہ سے خوشی منانی تھی وہ وجہ باقی نہ رہی۔ایک ظاہری چھلکا باقی رہ گیا اور روح مرگئی۔انسانی فطرت میں خوشی منانے کا یہ جذبہ اتنا راسخ ہے کہ میں نے اپنی طالب علمی کے زمانہ میں یہاں بھی اور انگلستان میں بھی یہ دیکھا ہے کہ بعض دفعہ خوشی حاصل کرنے کے اس جذ بہ کو سیر کرنے کے لئے طالب علم کہتے تھے کہ آؤ ہنسیں اور پھر وہ کسی وجہ کے بغیر قہقہے لگانے شروع کر دیتے۔کوئی وجہ نہیں ہوتی تھی اور وہ قہقہے لگا رہے ہوتے تھے۔وہ ایک دوسرے کو کہتے آؤ ہنسیں اور پھر وہ بلا وجہ ہنسنے لگ جاتے تھے۔غرض دنیا میں اس قسم کی ساری عید میں ہیں کہ قہقہہ تو لگ رہا ہے لیکن وہ قہقہہ کس وجہ سے اور کیوں ہے اس قہقہ لگانے والے کو بھی علم نہیں ہوتا۔چہرہ پر تو مسکراہٹ ہے لیکن دل میں خوشحالی کے جذبات نہیں۔وہ کیفیت نہیں۔حقیقی خوشی وہی ہے جس کے منانے کا اللہ حکم دے اور جس کی کیفیت پیدا کرنے کا اللہ تعالیٰ سامان پیدا کر دے۔جو آیت کریمہ میں نے ابھی تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ خوش ہو اور خوشیوں سے اپنے وجود کو بھر لو۔عید مناؤ ابشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ کیونکہ جس خوشی اور جس جنت کا تمہیں وعدہ دیا گیا تھا وہ تمہارے لئے میسر آ گئی ہے یا تمہارے پہلے کی نسبت زیادہ قریب ہو گئی ہے اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ انسان کے لئے جنت پیدا کرتا ہے اور حقیقتاً اس دنیا کی جنت کو ہی ہم ایک عظیم جسمانی اور روحانی انقلاب کے بعد اپنے ساتھ برزخ کی دنیا میں لے کے جاتے ہیں۔لیکن عام طور پر وہ جنت آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے لیکن اس جنت کی وجہ سے جو خوشی پیدا کی جاتی ہے اسے بچہ بھی اپنی عمر کے لحاظ سے محسوس کرتا ہے اسے