خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 487
خطبات ناصر جلد دہم ۴۸۷ خطبہ نکاح ۲۵/اکتوبر ۱۹۶۹ء ہم حقوق کو جس طور پر اللہ نے قائم کیا ہے سمجھنے اور ادا کرنے والے ہوں خطبه نکاح فرموده ۱/۲۵ کتوبر ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز ظہر مندرجہ ذیل نکاحوں کا اعلان فرمایا۔ا۔مسماۃ صالحہ یاسمین صاحبہ بنت مکرم پروفیسر محمد ابراہیم صاحب ناصر مرحوم ربوہ کا نکاح مکرم ملک مسعود احمد صاحب پسر مکرم ملک نواب خان صاحب لاہور سے مبلغ پانچ ہزار روپیہ مہر پر۔۲ - مسماۃ مبارکہ بیگم صاحبہ بنت میاں محمد الدین صاحب دار الرحمت غربی ربوہ کا نکاح مکرم محمد حسین صاحب ولد چوہدری غلام محمد صاحب سکنہ اولہ ضلع جھنگ حال کارکن نظارت اصلاح وارشاد سے مبلغ دو ہزار روپیہ مہر پر۔۳۔مسماۃ علیمہ نصرت صاحبہ بنت محمد عارف صاحب کا نکاح مکرم محمد خان صاحب طاہر پسر مکرم عبدالرشید صاحب بھٹی لائل پور سے مبلغ دو ہزار پانچ سور و پیر مہر پر۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اس وقت میں تین نکاحوں کا اعلان کروں گا۔ایک نکاح تو میرے دوست پروفیسر محمد ابراہیم صاحب ناصر مرحوم کی صاحبزادی کا ہے۔دوسرا نکاح میاں محمد الدین صاحب کی لڑکی کا ہے جو ہمارے پرانے تعلق رکھنے والے ہیں اور ایک اور نکاح ہے۔