خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 440 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 440

خطبات ناصر جلد دہم ۴۴۰ خطبہ نکاح ۹ رفروری ۱۹۶۹ء لاکھ روپے کا جہیز لے کے آئی ہے اور یہ نہیں بتا رہا ہوتا کہ میری بیوی میرے ان گندے دنیا دارانہ خیالات کی وجہ سے کس نفرت کا اظہار گھر میں مجھ سے کرتی ہے اس کو چھپالیتا ہے۔ایک ظاہری نمائش کی چیز جو ہے اس کو ظاہر کر دیتا ہے۔تو آپس کے تعلقات کی بنیاد ان فانی چیزوں پر نہیں رکھی جاتی بلکہ ان حقیقی صداقتوں اور حقائق پر رکھی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے فائدہ کے لئے پیدا کئے ہیں اور وہ یہی ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور پیار کا سلوک کرو۔ایک دوسرے کی عزت اور احترام کرو۔ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھو۔ایک دوسرے کو نیکیوں پر اکساؤ اور یہ سمجھو کہ تمہیں اپنے گھر کی ساری برکتیں اسی وقت مل سکتی ہیں جب بیوی بھی اللہ تعالیٰ کی برکتوں کو اور فضلوں کو جذب کرنے والی ہو۔خاوند بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کو جذب کر نیوالا ہو۔اگر ایک اللہ کی رحمت کو جذب کرے دوسرا نہ کرے تو ظاہر ہے کہ اس گھر میں آدھی برکت نازل ہوگی آدھی سے وہ محروم رہے گا۔خدا کرے ہمارے خاندان میں یعنی جماعت احمدیہ میں ( ہم سب کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی خاندان بنادیا ہے) اللہ تعالیٰ کی ساری برکتیں نازل ہوتی رہیں صرف آدھی برکتیں نہ نازل ہوں کہ بیوی برکتوں کو حاصل کرتی ہے اور خاوند برکتوں کو دھتکار کے گھر سے باہر نکال دیتا ہے یا خاوند برکتوں کو حاصل کرے اور بیوی برکتوں کو دھتکار کے باہر نکال دے۔یہ حالت نہ ہو۔ساری کی ساری برکتیں، سارے کے سارے فضل اور ساری کی ساری رحمتیں اللہ تعالیٰ کی ہمارے اس خاندان پر جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا روحانی خاندان ہے نازل ہوتی رہیں۔ایجاب وقبول اور دعا کرانے کے بعد حضور انور نے فرمایا :۔قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ اس زندگی میں انسان کے ساتھ خوشی اور غمی لگی ہوئی ہے۔خوشی میں بھی وہ راہ اختیار کرنی چاہیے جو اللہ تک پہنچانے والی ہو اور غم اور تکلیف کے دنیوی اور ظاہری اندھیروں میں بھی اس روشن راہ کو نہیں بھولنا چاہیے جو خدا تک لے جاتی اور جس کے ذریعہ