خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 432 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 432

خطبات ناصر جلد دہم ۴۳۲ خطبہ نکاح ۴ اکتوبر ۱۹۶۸ء والد صدرانجمن احمدیہ میں کام کرتے ہیں اور صدر انجمن احمد یہ میں کام کرنے والے واقف ہی ہیں چاہے انہوں نے وقف کا فارم پُر کیا ہو یا نہ کیا ہو وہ دین ہی کی خدمت کر رہے ہیں۔جواحمدی خاندان پاکستان سے باہر آباد ہیں یا پاکستان سے باہر کسی ملک میں ٹھہرے ہوئے ہیں ان کے بچوں کے رشتوں کے مسائل نہایت الجھے ہوئے ہیں۔مکرم چودھری خلیل احمد صاحب ناصر ( جو اس وقت امریکہ میں ہیں ) کی بچی کے رشتہ کا مسئلہ انہیں بھی پریشان کر رہا تھا اور مجھے بھی پریشان کر رہا تھا اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ہے کہ اس رشتہ کے سامان پیدا ہو گئے ہیں۔یہ لوگ اس ماحول کے رہنے والے ہیں جہاں لوگ اللہ تعالیٰ کا عرفان نہیں رکھتے۔ان کی تمام کوششیں اور عمل دنیا میں ہی ضائع ہو جاتے ہیں اور وہ دنیا ہی کی خاطر کئے جاتے ہیں۔ہمارے وہ احمدی خاندان جو پاکستان سے باہر رہتے ہیں ان پر بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ خود توحید پر قائم رہیں اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔وہ یہ کوشش کرتے رہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ سے زیادہ قرب پانے والے ہوں۔تمام مذاہب اس دنیا میں اسی غرض سے آئے ہیں اور تمام انبیاء اسی مقصد کے لئے دنیا میں مبعوث ہوتے رہے ہیں کہ وہ انسان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ زندہ اور جاودانی تعلق قائم کریں اور جو دنیا اس سے باہر ہے وہ دہریت کی دنیا ہے یا جہالت کی دنیا ہے۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا سوال ہے دنیا کا ایک بڑا حصہ دہر یہ ہو چکا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو پہچانتا نہیں۔ایک دوسرا حصہ اس رنگ میں تو دہر یہ نہیں ہوا کہ وہ خدا تعالیٰ سے کلی طور پر تعلق منقطع کرے۔وہ کسی نہ کسی رنگ میں خدا تعالیٰ کا نام تو لیتا ہے لیکن نہ تو وہ اس کی ذات کی معرفت رکھتا ہے اور نہ اس کی صفات کی معرفت رکھتا ہے اور اس ماحول میں زندگی گزارتے ہوئے خدا تعالیٰ کو نہ بھولنا اور اس کے ساتھ زندہ تعلق قائم رکھنا بڑا مجاہدہ چاہتا ہے کیونکہ اس دنیا کے جتنے راستے ہیں ان سے شیطان انسان کو ورغلانے کے لئے آموجود ہوتا ہے۔احمدی جہاں جہاں بھی رہتے ہیں انہیں خود بھی زندہ خدا کو سچے طور پر ماننا چاہیے (اور یہ سچا ایمان بغیر زندہ نشانوں کے حاصل نہیں ہو سکتا ) اور ان کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ان کا زندہ خدا