خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 433
خطبات ناصر جلد دہم ۴۳۳ خطبہ نکاح ۴ اکتوبر ۱۹۶۸ء کے ساتھ تعلق پیدا ہو جائے اور جو لوگ دہر یہ ہیں یا مذہب کے لحاظ سے وہ جاہل ہیں اور اس جہالت کے نتیجہ میں وہ نیم دہر یہ ہیں ان کے سامنے انہیں زندہ خدا کو پیش کرنا چاہیے۔ایک احمدی تو صبح و شام اللہ تعالیٰ کے زندہ نشان اور جلوے دیکھتا ہے۔یہ چیزیں پیش کر کے انہیں اپنے رب کی طرف واپس لوٹانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ہم جو یہاں رہتے ہیں ہمارا بھی یہ فرض ہے ایک عظیم نعمت اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے کہ ہم اپنے پیدا کرنے والے رب کو پہچانتے ہیں اور قرآن کریم (جو ایک عظیم معجزہ ہے ) کی جب غور سے تلاوت کرتے ہیں تو اس میں ایسا حسن پاتے ہیں جو کسی اور انسانی کلام میں نہیں پایا جاتا اور جو تعلیم اس نے ہمیں دی ہے اور جس کے مطابق اس نے ہم سے اپنی زندگی کو ڈھالنے کا مطالبہ کیا ہے اس پر ہم غور کرتے ہیں تو اس کامل اور مکمل شریعت کا ایسا احسان نظر آتا ہے جس کا بدلہ انسان ادا ہی نہیں کر سکتا اور جب اللہ تعالیٰ انسان پر احسان کرتا ہے تو وہ اس کا کیا بدلہ دے سکتا ہے؟ وہ شکر کی عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے کی کوشش کر سکتا ہے اور یہ کوشش اسے کرتے رہنا چاہیے۔ہم جنہوں نے احمدیت کے ذریعہ اسلام کو پہچانا ہے۔اگر ہم میں سے کسی کی اولاد اپنے پیدا کرنے والے رب سے دور ہو جائے تو اس سے زیادہ بد قسمتی اس انسان کی کیا ہوسکتی ہے اور اس سے زیادہ دکھ ہمیں اور کیا ہوسکتا ہے۔پس جو غرض اسلام کی ہے اسے پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ بڑا پیار کرنے والا، بڑا احسان کرنے والا اور بڑا انعام کرنے والا ہے۔اس کے احسانوں کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔اس کے غیر محدود احسانوں کی جو ( عقلاً اور شرعاً) غیر محدود شکریہ ادا کرنے کی ذمہ داری عاید ہوتی ہے وہ ہمارے بس میں نہیں۔انسان کی استعداد اس کی قوتیں اور اس کی کوششیں سب محدود ہیں۔جو شکر کے کلمات اس کے منہ سے نکلتے ہیں وہ بھی محدود ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کے غیر محدود احسانوں کا شکریہ کیسے ادا کیا جاسکتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بھی احسان کیا ہے کہ اگر انسان کوشش اور مجاہدہ سے اس کا شکر گزار بندہ بننے کی سعی کرے تو شکر کے ان محدود اقوال و افعال کے نتیجہ میں وہ انسان پر غیر محدود احسان کرتا چلا جاتا ہے۔اس کا یہ وعدہ ہے اور وہ وعدوں کا سچا ہے۔جو شخص اپنے اس احسان کرنے والے رب کو پہچانتا نہیں اور اپنی