خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 19 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 19

خطبات ناصر جلد دہم ۱۹ خطبہ عیدالفطر ۲/جنوری ۱۹۶۸ء سورة ق میں فرمایا۔وَ ازْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ - هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابِ حفیظ (ق: ۳۳،۳۲) کہ جنت جو ہے وہ متقیوں کے قریب کی گئی ہے۔اس کے ایک معنی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کئے ہیں تفسیر صغیر کے نیچے نوٹ میں کہ دین اسلام کی تعلیم کو اس طرح وضاحت کے ساتھ کھول کھول کر آخری زمانہ میں بیان کر دیا جائے گا کہ انسان کا دل یہ محسوس کرے گا کہ راہیں روشن ہو گئیں۔ان کو اختیار کرنا میرے لئے آسان ہو گیا۔اس لئے جنت میرے قریب ہوگئی۔دوری صرف فاصلہ کی نہیں ہوتی۔دوری جہالت کی بھی ہوتی ہے۔اگر ایک میل آپ نے جانا ہو تو ایک (میل) فاصلہ ہے لیکن آپ کو راستہ نہ آتا ہو۔تو وہ ایک میل جو ہے بیس میل بھی بن جاتا ہے۔بیس میل کا چکر لگا کے۔کئی ڈرائیور ہیں جن کو راستہ نہیں آتا۔ہمارے ایک ڈرائیور جب بھی ہمارے ساتھ گئے ہیں پنڈی۔راستہ بھول جاتے ہیں خود بتانا پڑتا ہے۔ایک دن وہ کہنے لگے مجھے آتا ہے راستہ ، آپ نہ بتا ئیں۔تو جس جگہ ہم نے جانا تھا۔وہ اس موڑ سے بمشکل پونے میں تھی میں نے کہا اچھی بات ہے۔ہم تمہیں نہیں بتاتے لے جاؤ انہوں نے کوئی سات آٹھ میل کا چکر دیا پھر وہاں پہنچے۔تو دوری اور بعد جو ہے وہ صرف فاصلے سے نہیں ہوتا بلکہ عدم علم اور جہالت کے نتیجہ پر بھی بعد پیدا ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ جنت کی راہوں کو اتنا روشن کر دیا جائے گا کہ مومن کا دل سمجھے گا کہ جنت میرے قریب آگئی ہے۔میں اندھیروں میں بھٹکتا نہیں پھروں گا۔واضح راستے ہیں جو میرے سامنے رکھ دیئے گئے ہیں۔اگر میں ان پر چلوں تو میں اپنے رب سے امید رکھوں گا کہ وہ مجھے اپنی رضا کی جنت میں داخل کرے گا - هذا ما تُوعَدُونَ اس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔لِحت او آپ اس شخص کے لئے وعدہ کیا گیا ہے جو بار بار اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور شریعت کا محافظ ہے۔شریعت کے ہر حکم کو بجالا نا ضروری سمجھتا ہے۔اور اس کو یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ میرا فرض ہے کہ میں اس بات کی حفاظت کروں کہ شریعت کا یہ حکم تو ڑا نہیں جاتا۔تو جب بندہ بار بار اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے۔استغفار کرتے ہوئے۔اپنے