خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 20 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 20

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عیدالفطر ۲ جنوری ۱۹۶۸ء گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے۔اس کی رحمت پر کامل امید اور بھروسہ رکھتے ہوئے۔تو پھر خدائے تو اب اپنی صفت کا جلوہ دکھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ نور میں فرمایا۔وَ لَو لَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُم وَرَحْمَتُهُ وَ اَنَّ اللهَ تَوَّابُ حَكِيمٌ (النور: ۱۱) کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہو اور یہ حقیقت نہ ہو کہ خدا تعالیٰ رحیم ہونے کے باوجود، خدا تمہاری احتیاج نہ رکھنے کے باوجود، خدا احد ہونے کے باوجود یکتا اور منفردا اپنی ذات اور صفات میں ہونے کے باوجود یہ صفت بھی رکھتا ہے کہ وہ تو اب ہے۔اگر خدا تواب نہ ہوتا اور حکیم نہ ہوتا اور فضلوں اور رحمتوں والا نہ ہوتا۔تو تم ہلاک ہو جاتے۔کیونکہ خالی آواب ہونا ضروری نہیں۔کوئی انسان ہے جو یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس کے عمل میں کوئی نقص نہیں اور اس کے اعتقادات اور روحانی تجربے جو ہیں یا جو جد و جہد ہے۔اس کے اندر کوئی فساد نہیں۔کوئی ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا اور محض آواب ہونا کافی نہیں جب تک ہمارا رب تو اب بھی نہ ہو۔وہ تو بہ قبول کرنے والا اور اپنی حکمت بالغہ سے بہت سے گناہوں کو معاف کرنے والا نہ ہو۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ حجرات میں فرمایا۔وَاتَّقُوا الله (الحجرات: ۱۳) کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر ڈر کے اپنی زندگی کے دن گزار و اگر تم ایسا کرو گے تو پھر ہم تمہیں یہ خوشخبری دیتے ہیں کہ جو کمزوریاں رہ جائیں گی۔ان کے باوجود إِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِيمُ (الحجرات : ۱۳) خدا تعالیٰ تمہاری تو بہ کو قبول بھی کرے گا اور جو تم نے عمل کئے ہیں ان کا بدلہ اس فارمولے کے مطابق دے گا جو اس نے قرآن کریم میں بیان کیا ہے۔دس گنا،سوگنا ، سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ۔تو جب بندہ آؤ اب ہونے کی صورت میں بار بار اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس کا رب تو اب کی حیثیت میں اس پر رجوع برحمت ہوتا ہے بار بار۔تو بار بار ہمارے لئے عید کا سامان پیدا ہوجاتا ہے۔پھر یہ عید ہماری واقع میں عید بنتی ہے۔ہر سال آنے والی عید بھی جو رمضان کے بعد یا حج کی عید ہے۔وہ بھی۔جیسا کہ لغت میں ہے ان دوعیدوں کا نہیں بلکہ ہر خوشی کا موقع عید کہلا تا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ یہ دو عیدیں جن میں سے ایک آج عید کا دن ہے۔