خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 400
خطبات ناصر جلد دہم ۴۰۰ خطبہ نکاح ۲۳ مارچ ۱۹۶۸ء عمومی رنگ کے، کچھ خاص طور پر ان خاندانوں سے تعلق رکھنے والے۔ایک خصوصی مقصد مثلاً یہ ہوتا ہے کہ جو خاندان قریب ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے پرے ہٹ رہے ہوتے ہیں تو کچھ نو جوان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر آپس کے ازدواجی رشتے ہو جا ئیں تو پھر یہ خاندان آپس میں قریب ہو جا ئیں گے۔عمومی رنگ میں ایک مسلمان کا مقصد یہ ہے کہ الہبی منشا پورا ہو۔ایک نیک نسل چلے جو اسلام کی خدمت گزار ہو۔تو بہت سے مقاصد ہیں جنہیں اس رشتہ کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے یا حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ دعا سکھلا کر اس طرف متوجہ کیا ہے کہ ہر مقصد کے حصول کی ایک راہ ہے وہ راہ الصّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے۔قرآن کریم کی بتائی ہوئی راہ ہے اور اس راہ پر چلنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی توفیق کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ سے توفیق حاصل کرنے کے لئے اس کے حضور عاجزانہ اور متضرعا نہ جھکنے کی اور دعا کی ضرورت ہے۔تو ہمیں ہر مقصد کے حصول کے لئے وہ راہ اختیار کرنی چاہیے جو ہمارے رب نے بتائی ہے۔اور اپنے رب سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اے خدا! ہمیں وہ راستہ دکھا کہ ہم تیری رضا کی ٹھنڈی چھاؤں میں چلتے ہوئے اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکیں اور اس راستہ پر چلنے کے لئے ہمیں توفیق عطا کر کہ بہتوں کو بعض دفعہ راہ مل جاتی ہے مگر اس راہ پر چلنے کی وہ توفیق نہیں پاتے۔تو دعا اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی تدبیر سے کام لے کر اپنے مقاصد کو حاصل کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے۔اس کے بعد حضور نے نکاحوں کا اعلان فرمایا اور رشتوں کے بابرکت ہونے کے لئے دعا فرمائی۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )