خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 399
خطبات ناصر جلد دہم ۳۹۹ خطبہ نکاح ۲۳ مارچ ۱۹۶۸ء عمومی رنگ میں ایک مسلمان کا مقصد یہ ہے کہ الہی منشا پورا ہو خطبہ نکاح فرموده ۲۳ مارچ ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے مندرجہ ذیل نکاحوں کا اعلان فرمایا۔ا۔عزیزه منصورہ طیبہ صاحبہ بنت عبدالمجید صاحب کے نکاح کا فضل الرحمن صاحب طاہرا بن قاضی عبدالرحمن صاحب سیکرٹری بہشتی مقبرہ سے تین ہزار روپیہ مہر پر۔۲۔عزیزہ زاہدہ تسنیم صاحبہ بنت ڈاکٹر عبد الرحمن صاحب بدوملہی مرحوم کے نکاح فیض اللہ صاحب ظفر ولد چوہدری رحمت اللہ صاحب کالا گھمناں سے پانچ ہزار روپیہ مہر پر۔عزیزہ بشری حکمت بنت مولوی محمد عبد اللہ صاحب کے نکاح کا محمد اقبال صاحب ولد فرمان علی صاحب سے چار ہزار روپیہ مہر پر۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔یہ دنیا وسائل و اسباب کی دنیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق انسان تدبیر سے کام لیتا ہے اور زندگی کے ہر مقصد کے لئے ایک ہی سیدھی راہ ہے اور وہ راہ وہ صراط مستقیم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن عظیم میں بیان کیا ہے۔یا جس کی تشریح حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میں فرمائی ہے۔ازدواجی رشتوں میں بھی بہت سے مقاصد مد نظر ہوتے ہیں کچھ