خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 14 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 14

خطبات ناصر جلد دہم ۱۴ خطبہ عید الفطر ۱۳ جنوری ۱۹۶۷ء بچنے کی انتہائی کوشش کرو ذا متربة بن جاؤ اور کچھ نہ ملے تو مزدوری کرلو لیکن دوسری طرف دوسروں کو کہا کہ تمہارا یہ بھائی اتنا با غیرت ہے کہ اس کو ایک لمحہ کے لئے بھی یہ پسند نہیں کہ تمہارے آگے ہاتھ پھیلائے۔اس نے جب اور کچھ نہیں ہوا تو مزدوری کرنی شروع کر دی۔دیکھ لو اس کے کپڑوں کو، دیکھ لو اس کے چہرہ کو !! یہ ذا متربة ہے یا نہیں ؟ تو اس کا ذا متربة ہونا اس کی غیرت کی دلیل ہے۔اس بات کی دلیل ہے کہ یہ شخص مانگنے کو عار سمجھتا ہے لیکن اس کے باوجود ملک کے حالات کے لحاظ سے اس کے اپنے خاندان کے حالات کے لحاظ سے کہ بچے زیادہ ہیں اور یہ اتنا کمانہیں سکا۔اس کے گھر میں پھر بھی بھوک نظر آتی ہے۔اب تمہارا فرض ہے اپنے اس بھائی کی مدد کرو لیکن آپ اپنے ان بھائیوں کی مدد نہیں کر سکتے جب تک آپ اپنی زندگی کو سادہ نہ بنائیں۔خصوصاً کھانے کے معاملہ میں۔تو اب وقت ہے کہ ہم ایک تو تحریک جدید کے اس مطالبہ پر نئے سرے سے عمل پیرا ہو جائیں جس کو ہم ایک حد تک بھول چکے ہوئے ہیں کہ اپنے کھانے میں سادگی کو اختیار کریں اور نہ صرف اپنے لئے روپیہ بلکہ اپنے بھائی کے لئے کھانا بھی بچائیں جب آپ کھانا ضائع کرتے ہیں تو دو چیزوں کا ضیاع ہوتا ہے۔آپ کے روپے کا اور آپ کے بھائی کی غذا کا۔اگر آپ مثلاً آدھ سیر آٹے کی بجائے چھ چھٹانک کھا ئیں تو آپ کے دو چھٹانک کے پیسے بچ گئے آپ کے بھائی کے لئے دو چھٹانک گندم بچ گئی۔تو کھانا کم کھائیں ، کھانا سادہ کھائیں تا کہ وہ لوگ جن کو آپ سے زیادہ ضرورت ہے ان کے پیٹ بھر جائیں۔اور یہ عید جو ہے اس کے متعلق یا درکھنا چاہیے کہ رمضان میں تو اطعام مسکین کی بجائے بعض دوسری عبادتوں کی طرف ہمیں زیادہ متوجہ کیا گیا تھا یعنی قیام لیل کی طرف اور خدا کے لئے کھانے کو چھوڑ دینے کی طرف۔وہ جو کھلانے والا حصہ تھا وہ اتنا نمایاں نہیں تھا۔اگر چہ پہلے روز سے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے صحابہ اور امت کے بزرگوں کا یہ طریق رہتا تھا کہ وہ بڑی کثرت کے ساتھ اس بات کا اہتمام کیا کرتے تھے کہ جو مستحق ہیں انہیں کھانا کھلائیں لیکن جو چیز میں نمایاں ہوتی ہیں رمضان کے مہینہ میں وہ قیام لیل اور خدا کے لئے کھانا چھوڑنا ہے اور جو