خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 351
خطبات ناصر جلد دہم ۳۵۱ خطبہ نکاح ۳۰ مارچ ۱۹۶۷ء چاہیے کہ عزم کریں ، جد و جہد کریں اور دعائیں کرتے رہیں خطبہ نکاح فرموده ۳۰ مارچ ۱۹۶۷ ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز ظہر عزیزہ امتہ الرشید صاحبہ بنت مولوی عبداللطیف صاحب ٹھیکیدار بھٹہ ربوہ کے نکاح ہمراہ عزیزی میر رفیق احمد صاحب پسر مکرم عزیز الدین صاحب کالرا کلاں ضلع گجرات کا اعلان فرمایا۔یہ نکاح سات ہزار روپیہ مہر پر ہوا ہے۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔عزیزہ امۃ الرشید مولوی عبداللطیف صاحب کی دوسری بیٹی ہے۔مولوی عبد اللطیف صاحب میرے بچپن سے دوست ہیں میرے ان سے ذاتی تعلقات ہیں مجھے ان کی بچی اپنی بچیوں کی طرح عزیز ہے۔عزیزم رفیق احمد صاحب ولائت میں رہتے ہیں اب شادی کے بعد بچی بھی ان کے ہمراہ انگلستان ہی جائے گی۔انشاء اللہ۔پھر حضور نے فرمایا کہ انگلستان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے صد با احمدی دوست رہائش رکھتے ہیں ان کی وہاں پر اچھی آمدنی ہے دنیوی طور پر ان کی حالت اچھی ہے۔ان تمام بھائیوں کو یا درکھنا چاہیے کہ اگر چہ وہ اپنے کاروبار کے سلسلہ میں اس ملک میں ہیں لیکن انگلستان والے ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ