خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 290
خطبات ناصر جلد دہم ۲۹۰ خطبہ نکاح ۲۸ رمئی ۱۹۶۶ء تربیت مناسب طور پر ہو اور نوجوان لڑکیوں کی جتنی جلدی ہو سکے شادی کر دی جایا کرے۔کیونکہ وہاں کا ماحول بہت زہریلا ہے۔ان باتوں کو مختصراً کہنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ جس لڑکی کے نکاح کا اعلان کرنے کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوا ہوں وہ شادی کے بعد اپنے خاوند کے ساتھ انگلستان جارہی ہے۔عزیزہ حامدہ کو جو شیخ فضل قادر صاحب مرحوم کی بیٹی اور مکرم شیخ نور احمد صاحب مرحوم مختار عام حضرت مصلح موعودؓ کی (جنہوں نے حضرت مصلح موعودؓ کی بڑی خدمت کی ہے) پوتی ہے۔چاہیے کہ وہ نہ صرف جماعت کے لئے ہی بلکہ دوسروں کے لئے بھی جن سے اس کے تعلق قائم ہوں اور اچھا اور نیک نمونہ پیش کرنے کی کوشش کرے اور مکرم کلیم الدین صاحب امینی کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ عزیزہ کو اس کے ماحول سے کاٹ کر اپنے ساتھ انگلستان لے جا رہے ہیں اسے وہاں کوئی تکلیف بھی نہ ہو اور پھر ساتھ ساتھ اس کی تربیت بھی ہوتی رہے۔ایک خاوند پر اس کی بیوی کے ہر قسم کے حقوق ہیں اور ان حقوق میں سے ایک بڑا حق یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کی تربیت کا خیال رکھے۔اس وقت جو احمدی دوست انگلستان میں ہیں انہیں بھی میں نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ پوری کوشش کریں کہ ان کے سلسلہ میں ہماری فکریں کم ہوں ، زیادہ نہ ہوں اور وہ وہاں ایسا ماحول اور ایسی فضا پیدا کریں کہ وہ فضا اور وہ ماحول مادر زاد عیسائیوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے والا ہو۔وہ اسلام کی خوبیاں دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوں اور جس معاشرہ میں وہ ڈوبے ہوئے ہیں اور جس گند میں وہ لیٹے ہوئے ہیں اس سے نجات حاصل کر کے اسلام کے پاک ماحول میں سانس لینے لگیں۔اس کے بعد حضور انور نے ایجاب وقبول کرایا اور فرمایا:۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس رشتہ کو زیادہ مبارک کرے اور انگلستان میں اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کا ذریعہ بنائے۔اس کے بعد حضور انور نے حاضرین سمیت لمبی دعا فرمائی۔(روز نامه الفضل ربوه ۸ جون ۱۹۶۶ صفحه ۴)