خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 248
خطبات ناصر جلد دہم ۲۴۸ خطبہ نکاح ۱۴ / جنوری ۱۹۶۶ء فتنہ کے معنی صرف بُری چیز کے نہیں ہیں۔ہماری زبان میں یہ لفظ اچھے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا لیکن عربی زبان میں اس کے معنے آزمائش اور امتحان کے ہیں اور آزمائش اور امتحان جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔خیر یعنی اچھی سے اچھی چیز سے بھی لیا جاتا ہے اور ابتلا مصیبت اور دکھ میں ڈال کر بھی لیا جاتا ہے۔جیسے فرمایا۔كُلُّ نَفْسٍ ذَابِقَةُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ۖ وَ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ (الانبياء : ٣٦) وَاللهُ عِنْدَةٌ أَجْرٌ عَظِيمٌ (التغابن : ۱۶) کہ ہر نفس نے ایک دن مرنا ہے اور اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا۔وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِ وَالْخَيْرِ ہم تمہیں مصائب اور دکھوں میں ڈال کر بھی تمہاری آزمائش کریں گے اور تم پر دنیوی اور روحانی انعامات کر کے بھی تمہیں امتحان میں ڈالیں گے۔پس جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارے بچے چاہے وہ تمہاری اطاعت کرنے والے ہوں۔تم سے پیار کرنے والے ہوں۔تمہاری عزت کرنے والے ہوں۔تب بھی وہ تمہارے لئے آزمائش اور فتنہ ہیں اور اگر وہ سرکشی کرنے والے، نافرمان اور تمہاری اطاعت نہ کرنے والے ہوں تب بھی وہ تمہارے لئے آزمائش اور فتنہ ہیں اور ان ہر دوصورتوں میں اس نے جو امتحان کا نصاب مقرر کیا ہے۔اس میں اگر تم کامیاب ہو جاؤ گے تو پھر تمہیں یہ خوشخبری دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس تمہارے لئے اجر عظیم ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس قسم کی ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق عطا کرے۔آمین اس کے بعد حضور انور نے حاضرین سمیت رشتہ کے مبارک ہونے کے لئے دعا فرمائی۔روزنامه الفضل ربوه ۱۶ رفروری ۱۹۶۶ صفحه ۴)