خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 247
خطبات ناصر جلد دہم ۲۴۷ خطبہ نکاح ۱۴ / جنوری ۱۹۶۶ء اموال اور اولا د انسان کے لئے آزمائش ہیں خطبہ نکاح فرموده ۱۴ جنوری ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر مکرمہ نسیم اختر صاحبہ بنت مکرم چوہدری خورشید احمد نائب امیر گوجرانوالہ کا نکاح چوہدری محمد احمد صاحب منیر بی۔اے ابن مکرم چوہدری عبد الرحمن صاحب بہلول پوری مینیجر فیروز سنز لیبارٹریز لائل پور کے ہمراہ بعوض پانچ ہزار روپیہ مہر پڑھا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ ہمیں رشتہ ناطہ کرنے یا جائز طور پر اپنی نسل چلانے کی کوشش کرنے سے نہیں روکتا لیکن اَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَ اَنَّ اللهَ عِنْدَةٌ أَجْرٌ عَظِيمٌ (الانفال: ۲۹) کہہ کر مومنوں سے فرماتا ہے کہ تم اچھی طرح سے سمجھ لو کہ تمہارے اموال بھی اور اولاد بھی جو تمہیں دی جاتی ہے آزمائش اور امتحان ہے اور پھر یہ امتحان معمولی امتحان نہیں کہ جس میں تم کامیاب ہو جاؤ تو کوئی معمولی سا انعام تمہیں ملے بلکہ اَنَّ اللهَ عِنْدَةٌ أَجْرٌ عَظِيمٌ اللہ تعالیٰ وہ قادر مطلق ذات ہے جو تمام طاقتوں کی مالک اور تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے۔وہ اپنے ان بندوں کو جو اس کی کامل اطاعت کرنے والے ہیں بڑا ہی اجر دیتا ہے۔اس لئے تمہیں چاہیے کہ اس امتحان میں جو 691 تمہارے اموال اور اولاد کے ذریعہ لیا جائے۔کامیاب ہونے کی کوشش کرو۔