خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 213 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 213

خطبات ناصر جلد دہم ۲۱۳ خطبہ عیدالاضحیہ یکم نومبر ۱۹۷۹ء خدا نے اس پیار اور عشق کی آزمائش کے لئے اور دنیا کو بتانے کے لئے کہ مجھ سے پیار کرنے والے کچھ اس طرح مستانہ پیار کرتے ہیں ایک ایسی رؤیا دکھائی جو تعبیر طلب تھی مگر ابراہیم کے عشق الہی نے ان کی توجہ تعبیر کی طرف نہیں پھیری۔انہوں نے کہا جو دیکھا ہے وہ کر دوں گا اور اس ایک بلند مرتبہ باپ نے ایک بلند مرتبہ بیٹے سے پوچھا کہ یہ خواب دیکھی ہے، تمہیں ذبح کر دوں خدا کی راہ میں۔اس نے کہا ٹھیک ہے اگر خدا کہتا ہے تو جس طرح تم راضی خدا کے حکم پر میں بھی راضی۔لٹا دیا ان کو ذبح کرنے کے لئے - تله لِلْجَبِينِ (الصفت : ۱۰۴) خدا نے کہا رویا ہے اس کی تعبیر ہے اور ظاہری شکل میں یہ قربانی کوئی حیثیت نہیں رکھتی میں تو اس سے بہت بڑی قربانی تم سے مانگ رہا ہوں، اس کے لئے تیار ہو جاؤ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں۔زندگی کا چشمہ اس بے آب و گیاہ وادی میں نکالنے کے لئے وہ عظیم قربانی لی گئی کہ اس میں جہاں نہ پانی تھا پینے کو نہ کوئی چیز کھانے کے لئے تھی انہیں رہنے کو کہا یہاں ان کو آباد کر دو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ادھر اُدھر نہیں دیکھا آگے پیچھے نہیں دیکھا کہ کہیں کوئی آثار پانی کے نظر آئیں نہ انہوں نے اس بات پر غور کیا کہ یہاں تو نہ کچھ ا گا ہے نہ اگ سکتا ہے۔انہوں نے کہا خدا کہتا ہے سچ کہتا ہے ہمارے فائدہ کے لئے کہتا ہے یہاں میں آباد کر دیتا ہوں اس کو۔یہ عظیم قربانی تھی جو ان سے لی گئی۔اس کی عظمت ہر آن موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خدا کی راہ میں زندگی گزارنا ہے۔اس عظیم قربانی کی عظمت اس بے آب و گیاہ وادی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے وجود کا پیدا ہو جانا ہے جو عشق کے میدانوں میں اپنے جد امجد ، ابراہیم علیہ السلام سے بھی آگے نکل گئے۔صلی اللہ علیہ وسلم۔تو یہ جو ساری ایسوسی ایشنز ( Associations) تعلقات ہیں۔اس عبادت کے عشق اور محبت کے ساتھ ہیں۔پھر وہ وادی بے آب و گیاہ نہیں رہی تھی اس وقت جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تھی خدا تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق دور دور سے لوگ حج بیت اللہ کے لئے آنے لگے۔ہر قسم کے پھل بھی وہاں آگئے ، اناج بھی آگئے ، تجارت بھی ان کی بڑھی ، بڑے امیر ہو گئے وہ جن کے