خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 214
خطبات ناصر جلد دہم ۲۱۴ خطبہ عید الاضحیہ یکم نومبر ۱۹۷۹ ء سپر د بیت اللہ کی خدمت کرنا تھا۔مگر جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو یہ وادی اس سے زیادہ بنجر تھی جس حالت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے پایا کیونکہ اس وقت نہ وہاں آدم تھا نہ حوا، نہ اچھا نہ بڑا یعنی جو شیطان کے پیچھے چلنے والے ہیں وہ بھی تو وہاں نہیں تھے کچھ بھی نہیں تھا۔کھانے پینے کی چیز بھی نہیں تھی۔خدا تعالیٰ کی مخالفت کرنے والے بھی نہ تھے ذریت شیطان بھی وہاں نہیں تھی لیکن اسی وادی میں جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو وہاں ایسے رو سابستے تھے جن کی شکلیں تو انسانوں کی طرح تھیں لیکن سر سے پاؤں تک جن کے اندر انسانیت مفقود تھی اور تیرہ سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انسانوں کے لحاظ سے“ وادی غیر ذی زرع میں گزارے۔وہ تو ایک بنجر تھا وہاں سانپ بستے تھے وہاں بھیڑیئے رہتے تھے وہاں بچھوں پائے جاتے تھے ( یعنی ان خصلتوں والے انسان) وہاں حقیقی انسان تو کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔ہر کوئی دکھ دینے کے لئے تیار، ایک منٹ کی سہولت اور سکون پہنچانے کے لئے کوئی تیار نہیں تھا۔سب سے بڑا معرکہ انہوں نے یہ مارا کہ عبادت کے وقت سجدہ کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر انتڑیاں اور اوجھری رکھ دی۔خدا کی عبادت میں روک بنے۔ان کی راہیں روکیں جنہوں نے دنیا میں ظلمت کو مٹا کر نور کو پھیلا نا تھا۔اس امت کو ساری کی ساری کو ہلاک کرنے کی کوشش کی کیونکہ اس وقت ساری دنیا میں وہی تھے چند سو ہوں گے شاید چند سو بھی نہ ہوں۔ان ظالموں نے ان کو وادی غیر ذی زرع کا نمونہ پیش کر کے شعب ابی طالب میں قید کر دیا اور کوشش یہ کی کہ بھوکوں مر جائیں وہ۔مگر خدا نے کہا بھوک کی شدت تو یہ برداشت کریں گے مگر بھوک سے مریں گے نہیں۔اس لئے کہ یہ امت مرنے کے لئے نہیں زندہ کرنے کے لئے پیدا کی گئی ہے وہ بھی ایک محبت کے نظارے ہیں۔عقل کا نظارہ نہیں ہے۔تو مکہ کے ساتھ جس عبادت کا تعلق ہے وہ عشق کی عبادت ہے وہ محبت کی عبادت ہے، وہ خدا تعالیٰ کی معرفت کے بعد انسان کو دنیا سے خوابیدہ اور غافل اور اس نور کا جس کی معرفت حاصل کرتا ہے دیوانہ بنادینے والی عبادت ہے۔آج ہم اس عبادت کی خوشی میں اَولَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ (ال عمران: ۹۷) سے ہزار ہا میل