خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 194 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 194

خطبات ناصر جلد دہم ۱۹۴ خطبہ عیدالاضحیه ۱۴ / دسمبر ۱۹۷۵ء لی گئی تھی کیونکہ جو آنے والا تھا اس کے استقبال کے لئے اور اس کی عظمت کے پیش نظر اسی عظیم قربانی کی ضرورت تھی۔چنانچہ وہ لوگ جن کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دل کے جذبات کی وجہ سے یہ کہا تھا کہ اے خدا! ان میں سے وہ لوگ جو ایمان پر قائم رہیں تو اپنی رحمتوں کے ثمرات ان کے لئے میسر کرنا اور خدا تعالیٰ نے جواب میں کہا کہ نہیں جو ایمان پر قائم نہیں رہیں گے ان کے لئے بھی میں دنیوی انعامات اور دنیا کی رحمتیں مہیا کروں گا۔پس ان نسلوں کی ، ان قربانی دینے والی نسلوں کی ، ان فدائی نسلوں کی ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کی تیاری کے لئے ہر چیز کی قربانی دینے کے جو ثمرات تھے اس میں ان کو بھی شامل کیا گیا حالانکہ وہ راہ راست سے بھٹک چکے تھے لیکن پھر وہی لوگ اور وہی نسل جن کے آباؤ اجداد نے اتنی عظیم قربانیاں دی تھیں ان کو خدا تعالیٰ کی یہ سرزنش بھی سنی پڑی۔اجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجَ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ کیا تم نے ان ظاہری چیزوں کو سب کچھ سمجھ لیا ہے تمہیں خدمت کے لئے مامور کیا گیا تھا اور تم نے اس عظیم ہستی کے خلاف فتویٰ دے دیا ہے جس کے لئے یہ ساری تیاری ہورہی تھی جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہوئی تو ان کو مسلمان سمجھنے سے انکار کر دیا اور صابی صابی کہنے لگ گئے۔غرض کتنی زجر ہے اس آیت میں۔اجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجَ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ پھر حالات بدلے اور وہ جو دنیا کا نجات دہندہ تھا اور وہ جو دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا اس کی امت بن گئی۔پھر خدا نے کہا جو قربانی حضرت ابراہیم کی نسلوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لئے دی تھی اس سے زیادہ قربانی ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کے قیام اور دنیا کے دلوں میں توحید کو گاڑنے کے لئے امت محمدیہ سے لینی ہے۔صرف ایک نسل نے یہ قربانی نہیں دینی بلکہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل نے اور ایک محدود زمانہ تک نہیں بلکہ رہتی دنیا یعنی قیامت تک قربانیاں دیتے چلے جانا ہے قیامت تک کا میں اس لئے کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے لئے رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ بن کر آئے ہیں۔یہ جو میں نے بڑے مختصر الفاظ میں ایک چھوٹی سی تصویر کھینچی ہے اس کے دو رنگ ظاہر