خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 195 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 195

خطبات ناصر جلد دہم ۱۹۵ خطبہ عید الاضحیه ۱۴ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء ہوتے ہیں انتہائی قربانیوں کا ایک رنگ ہے اور اس کی قبولیت کے نقش ہیں۔ان کے اوپر خدا تعالیٰ کی رحمتوں کی جو بارشیں ہوتی ہیں وہ ہمیں تاریخ بتاتی ہے اور پھر دوسرے وقت میں اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے جن لوگوں کے آباؤ اجداد نے سینکڑوں سال خدا تعالی کی آواز پر لبيك لبيك اللهم لبيك کہتے ہوئے اس کی راہ میں قربانیاں دی تھیں ان کی اولا د خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے آجاتی ہے۔خدا تعالیٰ کے آستانہ سے دھتکاری جاتی ہے اور اس وقت دھتکاری جاتی ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ نوع انسانی کے لئے انتہائی انعام مقدر ہو چکا تھا۔اس میں چونکہ جماعت احمدیہ کے لئے سبق ہے۔اس لئے میں نے یہ مختصر مضمون بیان کیا ہے۔غرض یہ میری نسل کا سوال نہیں اور نہ میری ذات کا سوال ہے نہ آپ کی نسل کا سوال ہے اور نہ آپ کی ذات کا سوال ہے۔چونکہ اب آخری فتح اسلام کی مقدر ہے اس لئے نسلاً بعد نسل قربانیاں دینے کا سوال ہے ہمیں یہ بتایا گیا ہے پہلے نوشتوں میں بھی اور قرآن کریم کی آیات سے بھی یہ استدلال ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی آیات کی جو تفسیر بیان فرمائی ہے اس سے بھی یہ پتہ لگتا ہے کہ اسلام کا عالمگیر غلبہ جو قیامت تک قائم رہنے والا ہے یعنی اس آخری ہلاکت تک جس کے متعلق نوشتے بتاتے ہیں کہ وہ ہلاکت یا قیامت اس وقت آئے گی جب انسانوں کی اکثریت پھر خراب ہو جائے گی اور پھر مکمل تباہی آجائے گی تو پھر کوئی نیا دور شروع ہوگا جس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ ہمیں اس کے متعلق کچھ سوچنے یا کہنے کی ضرورت ہے۔بہر حال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ کی بعثت کا جو مقصد ہے وہ غالب آئے گا اور نوع انسانی آپ کے جھنڈے تلے ہو جائے گی اور اس مقام کو حاصل کرنے اور اس پر قائم رہنے کے لئے کوشاں رہے گی تا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما السلام کی بعد کی اولاد کی طرح ایک وقت میں پھر یہ نہ سننا پڑے کہ تم نے اسلام کے ظاہر کو سب کچھ سمجھ لیا اور اس کی روح تمہارے جسموں سے نکل گئی اور اس کے روحانی جذبات تمہاری روحوں سے غائب ہو گئے اور انہیں یہ خبر نہ سننی پڑے۔اجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجَ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ پس