خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 186
خطبات ناصر جلد دہم ۱۸۶ خطبہ عید الاضحیه ۲۵؍دسمبر ۱۹۷۴ء کیونکہ یہ ایک نسل کی ذمہ داری نہیں اور نہ ہی ایک نسل اسے کامیابی کے ساتھ پورا کر سکتی ہے۔ایک نسل کے بعد دوسری نسل نے اس ذمہ داری کو نباہتے چلے جانا ہے۔یہ وہ اہم فریضہ ہے جس کی ابتدا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی اور جس کے اندر شدت اور جوش حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ پیدا ہوا۔ہم نے اسی شدت اور جوش کے ساتھ خدا تعالیٰ کے عشق و محبت کی آگ کو اپنے اندر اور اپنے باہر پیدا کرنا ہے تا کہ وہ دوسروں کے لئے روشنی کا کام دے اور ہمارے لئے فنا فی اللہ کے مقام تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کا واسطہ بن جائے۔خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے۔خدا کرے کہ اس کوشش میں ہم کامیاب ہو جائیں آپ بھی اور میں بھی کہ خدا تعالیٰ کا پیدا کردہ ہر انسان اپنے خالق و مالک رب کریم کو پہچاننے لگے اور اس کی رحمتوں کا وارث بن جائے۔خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا :۔اب ہم دعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمتیں ہمارے شامل حال ہوں۔ہماری زندگی اور اس کے ہر پہلو کو خدا اپنی رحمت کے سایہ میں رکھے اور وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے اور ہمیں کبھی بے سہارا نہ چھوڑے۔آؤ دعا کر لیں۔اجتماعی دعا کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔سب دوستوں کو عید مبارک ہو۔ایک بات میں اور کہنا چاہتا ہوں دوست اسے بھی تو جہ سے سن لیں کہ یہ جلسہ کوئی دنیوی اٹھ تو نہیں۔خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ، دین محمد کمی کی باتیں سننے کے لئے اس نیت کے ساتھ ہم یہاں اکٹھے ہوئے ہیں کہ ہم ان پر عمل بھی کریں گے اور یہی انسانی زندگی کی حقیقت ہے۔آدھی حقیقت کو دنیا بھولے رہتی ہے۔مگر آپ کو نہیں بھولے رہنا چاہیے کیونکہ انسان کی بقاء کے لئے ، انسان کی حیات کے قائم رہنے کے لئے ، انسان کی ترقیات کے لئے، انسان کی کامیابیوں کے لئے ایک نہیں دو چیزوں کی ضرورت ہے اور کسی ایک کو بھی ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ایک ہے تدبیر یعنی کوشش کرنا مثلاً ایک طالب علم ہے اگر وہ پڑھے نہ تو کامیاب نہیں ہوسکتا۔لیکن جس قدر اہمیت تدبیر کو حاصل ہے۔اس سے زیادہ اہمیت کا حامل دوسرا حصہ ہے