خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 185 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 185

خطبات ناصر جلد دہم ۱۸۵ خطبہ عیدالاضحیه ۲۵؍دسمبر ۱۹۷۴ء اور مکمل تھا ، آپ کے حسن و احسان کے جلوے مخلوق پر ظاہر ہورہے ہیں۔یہ آپ کا عظیم احسان ہے۔پس آپ کے حسن و احسان کے جو جلوے ہم نے دیکھے ہیں ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ جلوے ہمارے دوسرے بھائی بھی دیکھیں۔غرض ہماری زندگیاں دنیا کے لئے نہیں اور نہ دنیا کے اموال جمع کرنے کے لئے ہیں۔نہ ہماری زندگیاں دنیا کی سیاست کے لئے ہیں اور نہ دنیا کے اقتدار کے لئے نہ ہماری کوششیں دنیا کی وجاہت کے لئے ہیں اور نہ دنیوی عزت کے لئے ہماری زندگی عاجزی اور انکساری کے لئے ہے۔ہماری زندگی خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے عشق میں اپنے لمحات گزارنے کے لئے ہے۔ہماری زندگی اس لئے اور صرف اس لئے ہے کہ ہم دنیا کے ہر شخص کے پاس پہنچیں اور اسے اسلام کے پیش کردہ خدائے واحد و یگانہ سے روشناس کرائیں اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو محسن اعظم کی حیثیت سے دنیا کی طرف مبعوث ہوئے ہیں ، ان کی صداقت کا قائل کروائیں تا کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے وارث بنیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن واحسان کے جلوے ان کی زندگیوں میں بھی نظر آنے لگیں۔یہ ہے ہماری زندگی اور یہ ہے ہمارا مقصد جو دنیا سے، دنیا کی آنکھ سے، دنیا کے خیالات سے اور دنیا کے حالات سے بالکل مختلف اور متضاد ہے۔اس لئے دنیا آپ کو پہچانتی نہیں اور چونکہ وہ آپ کو پہچانتی نہیں اس لئے آپ کو اس سے گلہ ہی کیا ہے۔آپ نے تو اپنا ہر سانس خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے لینا ہے اور آپ نے اپنی طاقت کا ہر ذرہ خدا تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے خرچ کرنا ہے۔آپ کو کسی سے کیا شکوہ اور کیا گلہ۔پس آپ ایک مقصد سامنے رکھیں۔نہ دائیں دیکھیں اور نہ بائیں۔آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کے عشق کی ایک آگ ہونی چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فارسی کے ایک شعر میں فرمایا ہے کہ میرے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت کی آگ بھڑک رہی ہے۔میرے وہ ساتھی جو ابھی محبت الہی میں خام ہیں اور خدا کے عشق میں پختہ نہیں وہ دور ہٹ جائیں کہیں جل نہ جائیں۔پس احباب جماعت کو چاہیے کہ وہ پختہ نہیں اور دوسروں کو پختہ بنانے کی کوشش کرتے رہیں