خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 184
خطبات ناصر جلد دہم ۱۸۴ خطبہ عیدالاضحیه ۲۵/دسمبر ۱۹۷۴ء ایک لمبے عرصہ سے شروع کر رکھی تھی لیکن یہ نمایاں ہوکر ۱۹۲۹ء سے ۱۹۴۹ء تک میں سال جد و جہد کرتی رہی۔اس عرصہ میں تحریک آزادی کے قائدین اور عمائدین نے لوگوں کو یہ ہدایت دے رکھی تھی کہ اپنے دشمنوں سے اس وقت تک جنگ نہیں لڑنی جب تک تمہاری کا میابی یقینی نہ ہو۔اگر کامیابی یقینی نہ ہو تو ادھر ادھر ہو جاؤ اور دشمن سے جھڑ ہیں نہ لو۔صرف اسی پر بس نہیں کی بلکہ انہوں نے یقینی کامیابی کا معیار یہ ٹھہرا رکھا تھا کہ صرف اسی وقت حملہ کیا جائے جب دشمن سے تعداد میں دو گنے ہوں۔اگر دشمن تعداد میں برابر ہے۔تب بھی حملہ نہیں کرنا اور دشمن سے جنگ شروع نہیں کرنی۔یہ ہے وہ دماغ جو دنیا میں اپنے اقتدار کے حصول کے لئے کوشش کرتا ہے لیکن جس نے خدا تعالیٰ کا نام بلند کرنا ہو وہ تعداد کو نہیں دیکھتا۔اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ تیس ہزار مسلمانوں نے تین لاکھ کا مقابلہ کیا۔یرموک کے میدان میں مسلمانوں کے مقابلے میں دشمن کی تعداد ایک اور دس کی نسبت سے تھی مگر پھر بھی مسلمان پیچھے نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بدر کے معرکے میں آپ کے ساتھ مٹھی بھر لوگ تھے۔جن کے پاس تلوار میں مانگی ہوئی تھیں۔ان کے پاس نہ زرہیں تھیں اور نہ سواریوں کے لئے جانور۔وہ پیدل گئے تھے۔ان کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے تھے۔وہ کس غرض کے لئے وہاں گئے تھے؟ آیا رؤسائے مکہ کی تلوار میں چھیننے کے لئے وہاں گئے تھے؟ عقل کہتی ہے کہ نہیں! ان کے اپنے حالات بتاتے ہیں کہ نہیں !! صرف ایک محبت اور عشق الہی تھا جو ان کے سینوں میں موجزن تھا۔وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم کرنا چاہتے تھے۔خود اپنے لئے وہ کچھ نہیں چاہتے تھے۔آج ہم بھی میں اور تم سبھی اس لئے پیدا کئے گئے ہیں کہ دنیا کے اموال سے کوئی غرض نہ رکھیں، دنیا کے اقتدار اور سیاست سے کوئی غرض نہ رکھیں بلکہ دین کی سر بلندی کے لئے اپنی زندگیاں گزارنے والے بن جائیں۔ہم دنیا کی ہر تکلیف برداشت کر کے دنیا کے کونے کونے میں خدا تعالیٰ کی توحید کو قائم کریں اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہر جگہ گاڑ دیں۔لوگوں کے ذہنوں ، ان کی عقل اور فراست کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے منور کر دیں۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صفات باری کے مظہر اتم تھے ، آپ کا وجود روحانی لحاظ سے کامل