خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 176
خطبات ناصر جلد دہم ۱۷۶ خطبہ عیدالاضحیه ۵/جنوری ۱۹۷۴ء قرآن کریم کی شریعت کو اُٹھا سکیں اور اس کامل شریعت کی ذمہ داریوں کو نباہ سکیں۔گویا یہ ایک بنیاد تھی جسے ایک نبی کے بعد دوسرے نبی کے ذریعہ مضبوط سے مضبوط تر بنایا جارہا تھا اور پھر ہزاروں سال کی اُس تربیت اور تیاری کے بعد حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔آپ انسانیت کا نچوڑ تھے۔آپ ہی کی خاطر عالمین کو ، کائنات کو پیدا کیا گیا تھا۔آپ کی ذات میں نوع انسانی نے خدا تعالیٰ کی صفات کے حسین تر جلوے دیکھے۔آپ کے وجود میں نوع انسانی نے انسانی قوتوں کی کمال نشو و نما کا مشاہدہ کیا۔پس ظاہر ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ انسان کے کندھوں پر ایک نئی قسم کی ذمہ داریاں ڈالی گئیں۔آپ سے پہلے نسل انسانی کو ان ذمہ داریوں کے اُٹھانے کی تربیت دی جارہی تھی۔آپ کی بعثت کے بعد اس بنیاد پر منزل بمنزل روحانی محل کو بلند سے بلند تر کیا جانے لگا اور اس میں وسعت پیدا ہونی شروع ہوئی، یہاں تک کہ ہمارے اس زمانہ میں یہ وسعت اپنی انتہائی شکل اختیار کرنے کے لئے تیار کھڑی ہے۔اب نوع انسانی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی قلعہ میں سما جائے گی اور شیطان کے ہر قسم کے حملوں سے محفوظ ہو کر لوگ خدا تعالیٰ کی حمد کے ترانے گاتے ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہوئے امن کی زندگی گزارنے لگیں گے۔دین اسلام کو وسعتوں کی اس انتہا تک پہنچانے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیوض کے دائرہ کو وسیع سے وسیع تر کرنے کی ذمہ داری امت محمدیہ کے کندھوں پر ڈالی گئی تھی اور اب اس زمانہ میں یہ ذمہ داری اپنی انتہائی شکل میں امت محمدیہ کے اس گروہ پر ڈالی گئی ہے جسے جماعت احمدیہ کا نام دیا گیا ہے اور جس کی بنا حضرت مہدی معہود اور مسیح موعود علیہ السلام نے ڈالی ہے۔یہی وہ جماعت ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور قربانیاں پیش کر رہی ہے اور اس ایثار کا نمونہ دکھا رہی ہے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار اور آپ کے محبت کے سرچشمہ سے پھوٹتا اور دُنیا کو اپنے حسن و احسان سے گرویدہ بنا کر خدائے واحد و یگانہ کی طرف لانے والا ہے۔گویا اس جماعت کا یہ نصب العین ہے کہ وہ اسلام کے قلعے کو حتی الامکان وسیع سے وسیع تر اور بلند سے بلند تر کرنے کے لئے کوشاں رہے۔