خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 177
خطبات ناصر جلد دہم 166 خطبہ عیدالاضحیه ۵/جنوری ۱۹۷۴ء پس جماعت احمد یہ کمزور اور بے بس ہونے کے باوجود، حقیر سمجھے جانے کے باوجود، دنیا کی دھتکاری ہوئی جماعت ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے حضور بشاشت سے قربانیاں دینے میں آگے ہی آگے بڑھ رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس روحانی عمارت میں وسعت پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کر رہی ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذلِكَ - ہماری یہ عید در اصل قربانیوں کی یاد دلاتی ہے اس عید سے خدا تعالیٰ کے حضور ایک خاص مقصد کے حصول کے لئے قربانیاں دینے کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔اس وقت جماعت احمدیہ کے سب افراد مرد بھی اور عورتیں بھی ، بڑے بھی اور چھوٹے بھی چونکہ خدا کی راہ میں قربانیاں دینے میں مشغول ہیں اس لئے میں سب کو اس عید کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ان قربانیوں کے نتیجہ میں جو برکات حاصل ہو رہی ہیں اللہ تعالیٰ اُن میں اور بھی زیادتی کرے اور آپ سب اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے وارث بنیں جن کی ہمیں بشارتیں دی گئی ہیں۔یہ وہ بشارتیں ہیں جن کا پہلے نبیوں نے بھی ذکر کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عظیم نعمتوں کی بشارتیں دی ہیں اور آپ کے عاجز متبعین نے بھی اُن کا ذکر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہم سب کو خدا کی راہ میں قربانیاں پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہمیں وہ ساری نعمتیں مل جائیں جن کی ہمیں بشارتیں دی گئی ہیں اور اس طرح قربانی کی اس عید سے جو حقیقی برکات وابستہ ہیں خدا کرے کہ ہم سب کو وہ برکتیں نصیب ہوں۔اللھم آمین۔روزنامه الفضل ربوه ۱۶ جنوری ۱۹۷۴ ، صفحه ۸٫۲)