خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 154
خطبات ناصر جلد دہم ۱۵۴ خطبہ عید الاضحیہ ۲۷ / جنوری ۱۹۷۲ء کے دن قریب سے قریب تر آتے چلے جائیں۔میرا یہ پیغام ساری دنیا میں پھیل جائے جسے ساری دنیا کے احمدی اور ان کے دوست بھی سنیں۔لیکن ایسے براڈ کاسٹنگ اسٹیشن جو عورتوں کی لپ سٹک کے سامان کے اشتہار تو پیسے لے کر شائع کر دیتے ہیں مگر انہوں نے میری تقریر نشر کرنے سے انکار کر دیا گویا وہ خدا تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنانے کے لئے پیسے لے کر بھی ہمیں وقت نہیں دے سکتے۔بہر حال یہ ایک تعصب ہے اس تعصب کی تار یا باریک سا دھاگہ بھی انشاء اللہ کٹ جائے گا گواس وقت یہ ہمارے راستے میں روکیں پیدا کر رہا ہے مگر جس وقت اللہ تعالیٰ کا طاقتور ہاتھ اس پر آکر گرا تو چرخ کے بنے ہوئے ایک پتلے سے دھاگے کی طرح یہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے مقابلے میں اس کی نہ کوئی طاقت ہے اور نہ کوئی حیثیت ! اور اس کا خاتمہ بھی انشاء اللہ ہو کر ہی رہتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس عالمگیر غلبہ کے لئے تیسری چیز یہ بیان فرمائی ہے اور اس کے دو حصے ہیں (اور یہ دو حصے میں کر رہا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو ان دونوں چیزوں کو اپنے مقام پر اکٹھا بیان فرمایا ہے ) ایک یہ کہ دنیا کے ہر حصے میں الہی تائیدات اور الہی نشانات ظاہر ہونے لگ جائیں اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے زبر دست نشان جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے آپ ہی کے روحانی فرزند حضرت مہدی معہود علیہ السلام کو دیئے گئے ہیں۔ان میں سے ہر ایک نشان خواہ وہ کہیں ظاہر ہو ساری دنیا کو اس کا علم ہو جائے یعنی براڈ کاسٹنگ یا کتب وغیرہ کے ذریعہ اس کا پتہ لگ جائے مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ڈوئی کے ساتھ مقابلے کا نشان ہے اور ڈوئی کا امریکہ کے ساتھ تعلق تھا۔پھر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مہدی معہود کے لئے ایک اور بڑا ز بر دست نشان بتایا تھا۔اور وہ سورج اور چاند گرہن کا نشان تھا جسے آیتین کر کے بتایا گیا تھا۔چنانچہ یہ نشان ایک سال ہمارے اس علاقے میں ظاہر ہوا اور دوسرے سال انہی موعودہ تاریخوں میں یہی نشان امریکہ میں ظاہر ہوا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان نشانوں کو خود سامان