خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 133 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 133

خطبات ناصر جلد دہم ۱۳۳ خطبہ عیدالاضحیہ ۲۷ فروری ۱۹۶۹ء فرمایا ہے کہ غیر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو تکالیف کیوں پہنچتی ہیں آپ فرماتے ہیں کہ ان سے جا کر پوچھو کہ خدا کی راہ میں انہیں جو پہنچتا ہے جسے تم تکالیف ، دکھ، مصائب اور ایذا سمجھتے ہو آیا وہ بھی ان چیزوں کو تکالیف، مصائب اور ایذا سمجھتے ہیں یا بڑی لذت اور سرور پہنچانے والی چیزیں سمجھتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال میں یہ بتایا کہ جو حقیقتا خدائے واحد ویگانہ کی پرستش کرنے والے اور اس کی عظمت اور اس کے جلال اور احسان اور اس کی توحید اور اس کی رحمت اور اس کی رافت کے جلوے دیکھنے والے ہیں وہ ان دکھوں کو دکھ نہیں سمجھتے ان آگوں کو آگ نہیں سمجھتے یہ آگ ان کی بلکہ ان کے غلاموں کی غلام ہو جاتی ہے۔وہ ان دکھوں کو ، اس آگ کو بردا ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میں تیرے ذریعہ سے دنیا پر یہ ثابت کر دوں گا کہ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو وہ تباہ نہیں ہوا کرتا وہ سلامتی کا وارث ہوتا ہے وہ خدائے سلام سے سلامتی کو حاصل کرتا ہے اس کو ہلاکت کے چشمے اور شیطان کے منبع ہلاک نہیں کر سکتے۔پس ایک قربانی جس کا تقویٰ آسمان تک پہنچا، جسے خدا نے قبول کیا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی تھی اور قرآن کریم نے ہمیں اس مثال میں بتایا کہ جو قربانیاں قبول ہو جاتی ہیں جو تقویٰ کی رو سے زندہ ہوتی ہیں وہ خدا کو محبوب ہو جاتی ہیں اللہ تعالیٰ اس کے نتیجہ میں دو معجزے دکھاتا ہے ایک دنیا کے دکھوں کو ٹھنڈا کر دیا جاتا ہے اور وہ خوشی کا اور لذت اور مسرت کا موجب بنتے ہیں ایڈا کا موجب نہیں بنتے اور دوسرا معجزہ یہ دکھاتا ہے کہ ساری دنیا جلانے ، مارنے ، پیٹنے ، ہلاک کرنے اور مٹا دینے پر تلی ہوئی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کے فرشتوں کی یہ آواز فضاؤں میں گونج رہی ہوتی ہے کہ یہ وہ قوم ہے جن پر اللہ تعالیٰ اپنی سلامتی کو نازل کرتا ہے۔پس ایک تو دشمن کا منصوبہ جو مٹانے کے لئے کیا جاتا ہے برد ہو جاتا ہے اور دوسرے وہ سلامتی بن جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ ان قربانیوں کے نتیجہ میں دو معجزے دکھاتا ہے جنہیں وہ قبول کر لیتا ہے جیسا کہ میں نے ابھی کہا کہ جو تقویٰ کی روح سے زندہ ہوتے ہیں۔