خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 845 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 845

خطبات ناصر جلد دہم ۸۴۵ خطبہ نکاح ۱۱ را پریل ۱۹۸۲ء ی تھی کہ اگر مجھے ذاتی حیثیت میں مرزا ناصر احمد کو شادی کرنی ہوتی تو کسی اور رنگ میں سوچنا پڑتا کہ بیوی کیسی ہے۔جس نے بوجھ ہلکا کرنے کے لئے آنا ہے کسی گھر میں ، وہ بوجھ کی پنڈ باندھ کر تو اس گھر میں داخل نہیں ہو سکتی ورنہ تو مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔پرانی عادتیں۔لچک کی بجائے Rigidity پیدا ہو چکی ہے وغیرہ وغیرہ۔تربیت قبول کرنے کا اتنا مادہ نہیں رہا۔بہت سارے، بیسیوں پہلو تھے جن پر غور کیا اور دعائیں کیں اور ایک وقت آیا کہ میں نے جب دعا ئیں شروع کیں تو تین دوستوں کو دعا کے لئے لکھا۔یہ دعا کے لئے میں نے جو لکھا اس میں یہ نہیں تھا کہ یہ استخارہ کریں کہ فلاں جو عورت ہے اس کے ساتھ شادی کر نا با برکت ہوگا یا نہیں کیونکہ فلاں عورت میرے دماغ میں Exist ہی نہیں کر رہی تھی تھی ہی نہیں۔دعا کے لئے میں نے جو لکھا وہ یہ تھا :۔بسم اللہ الرحمن الرحیم مکرمی۔۔۔۔۔اپنے رب کریم کا یہ عاجز بندہ اپنی وفادار ایثار پیشہ، سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لئے ہر آن وقف رہنے والی منصورہ کو مرتے دم تک بھول نہیں سکتا لیکن جماعتی ذمہ داریاں ایک ایسی ہی ساتھی کا تقاضا کرتی ہیں۔اس احساس نے ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ دعا عطا کی رَبِّ إِنِّي لِمَا انْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِير (القصص: ۲۵)۔آپ سات روز تک الله الرّحمن، الرَّحِیم سے انتہائی عاجزانہ دعا کریں کہ وہ اپنے فضل سے صحیح انتخاب کی تو فیق عطا کرے۔اگر کوئی خواب دیکھیں تو لکھ بھیجیں۔پھر میں نے چالیس روزہ دعائیہ زمانہ بسر کیا جو اس مہینے کی پانچ تاریخ کو رات کے بارہ بجے ختم ہوا۔اس سارے عرصہ میں میں نے بالکل خالی الذہن ہو کر اور انتخاب کو کلیتہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ کر یہ دعائیں کیں کہ یہ مسئلہ ہے اسے تو ہی حل کر سکتا ہے ، حل کر۔تا کہ جو جماعت میں ایک بے چینی پیدا ہو رہی ہے، وہ سکون میں بدل جائے اور تیرا فضل ہو ان پر اور تیری رحمتیں نازل ہوں ان پر اور اپنی مشکلات کے لئے جو برکتیں خلافت سے لی جاسکتی ہیں، خلیفہ وقت کی بیوی کے ذریعہ سے ، وہ دروازہ پھر کھل جائے لیکن خدا تعالیٰ کے حضور میں نے یہ دعا کی کہ ہوسکتا ہے کہ میرے دماغ میں کوئی رشتہ آجائے۔اگر ایسا رشتہ آ جائے کہ جو تیرے نزدیک اس ضرورت کو پورا